پشاور: خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے سکول سے باہر بچوں کو رسمی یا متبادل تعلیم میں لانے کے لیے 10 ہزار اضافی کلاس روم، تقریباً 300 متبادل تعلیمی پروگرام مراکز اور 50 مساجد کو سرکاری پرائمری سکولوں میں تبدیل کرنے سمیت متعدد اقدامات کی تفصیل پیش کی ہے۔ یہ معلومات پشاور میں لڑکیوں کی تعلیم پر منعقدہ پوسٹ بجٹ سیمینار میں دی گئیں، جس کا اہتمام خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں اور سماجی تنظیم بلیو وینز نے کیا تھا۔
محکمہ تعلیم کے پروکیورمنٹ اسپیشلسٹ محمد اعجاز خلیل نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے تعلیمی ترقیاتی پروگرام میں 73 نئے منصوبے شامل ہیں جن کی مجموعی منصوبہ جاتی لاگت 125 ارب 14 کروڑ 23 لاکھ 48 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔ انہوں نے پہلی سہ ماہی کے لیے 3 ارب 89 کروڑ 35 لاکھ 82 ہزار روپے مختص ہونے کا بھی ذکر کیا۔ مجموعی منصوبہ جاتی لاگت کو ایک سال کا خرچ یا پہلے ہی جاری شدہ رقم نہیں سمجھا جانا چاہیے؛ عملی اخراجات مرحلہ وار منظوری، اجرا اور استعمال سے طے ہوں گے۔
محکمہ کے نمائندے کے مطابق صوبے میں موجود سکولوں پر دباؤ کم کرنے اور مزید بچوں کے لیے جگہ پیدا کرنے کے لیے تقریباً 10 ہزار اضافی کلاس روم بنانے کی تجویز یا عمل درآمدی منصوبہ موجود ہے۔ اسی طرح 50 مساجد کو سرکاری پرائمری سکولوں میں تبدیل کرنے پر کام جاری ہے۔ بیان میں ان تمام مقامات کی فہرست، تعمیراتی تکمیل کی تاریخ یا ضلع وار بجٹ جاری نہیں کیا گیا، اس لیے ان اقدامات کو مکمل شدہ منصوبوں کے بجائے جاری یا مجوزہ کام کے طور پر بیان کرنا درست ہے۔
سکول جانے کی عمر سے زیادہ بچوں اور رسمی نظام سے باہر رہ جانے والے طلبہ کے لیے ایلیمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور شراکت دار اداروں کے ذریعے تقریباً 300 الٹرنیٹو لرننگ پروگرام مراکز قائم کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔ ایسے مراکز کا مقصد تیز رفتار یا لچک دار نصاب کے ذریعے بچوں کو بنیادی تعلیم دینا اور ممکن ہو تو انہیں رسمی سکولوں میں منتقل کرنا ہے۔ مراکز میں داخل طلبہ، اساتذہ، حاضری اور تکمیل کی شرح سے متعلق تازہ یکجا اعداد سیمینار میں عام نہیں کیے گئے۔
ضم شدہ اضلاع میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے عالمی خوراک پروگرام کے تعاون سے فی طالبہ 500 روپے ماہانہ وظیفہ بحال کیے جانے کا بھی ذکر ہوا۔ حکام کے مطابق سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ہدایت کی روشنی میں اسے ایک ہزار روپے تک بڑھانے پر کام جاری ہے۔ یہ اضافہ ابھی نافذ شدہ یا تمام مستحق طالبات کو ادا شدہ رقم کے طور پر پیش نہیں کیا گیا؛ حتمی منظوری، اہلیت کے قواعد اور ادائیگی کے شیڈول کی الگ تصدیق درکار ہو گی۔
بلیو وینز کے پروگرام منیجر قمر نسیم نے 2023 کی مردم شماری سے اخذ کردہ اعداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تقریباً 49 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں، جن میں قریب 29 لاکھ لڑکیاں شامل ہیں۔ ان کے مطابق پانچ سے سولہ سال کی 52 فیصد لڑکیاں سکول نہیں جاتیں اور داخل ہونے والی طالبات میں بھی بڑی تعداد ثانوی سطح تک نہیں پہنچتی۔ یہ اعداد سیمینار میں سول سوسائٹی کے نمائندے نے پیش کیے؛ انہیں محکمہ تعلیم کی اسی روز جاری کردہ نئی گنتی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
قمر نسیم نے کہا کہ 49 لاکھ بچوں کو روایتی سکولوں میں جذب کرنے کے لیے اندازاً 15 ہزار مزید سکول درکار ہو سکتے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت دستیاب وسائل میں سالانہ چند سو سکول ہی تعمیر کر سکتی ہے۔ انہوں نے سرکاری و نجی شراکت، کمیونٹی مراکز، فاصلاتی تعلیم اور غیر رسمی نظام کو ایک مشترکہ حکمت عملی میں شامل کرنے کی تجویز دی۔ یہ ضرورت کا تخمینہ اور پالیسی تجویز ہے، منظور شدہ تعمیراتی ہدف نہیں۔
خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس نے تعلیمی بجٹ میں تقریباً 11 فیصد اضافے کا خیر مقدم کرتے ہوئے زور دیا کہ مختص رقم کے بروقت اجرا اور مؤثر استعمال کی نگرانی بھی ضروری ہے۔ صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ کے نمائندے سید وقار شاہ نے نجی سکولوں، خصوصاً خواتین اساتذہ، کے لیے کم از کم اجرت کے نفاذ اور تعلیمی تجاویز کو اسمبلی کے پالیسی عمل تک پہنچانے کی ضرورت بیان کی۔
صوبائی حکومت نے اس سے پہلے 2026-27 کی داخلہ مہم میں چھ لاکھ 43 ہزار 715 سکول سے باہر بچوں کو داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا، جس میں لڑکیوں کا حصہ لڑکوں سے زیادہ رکھا گیا۔ سیمینار میں پیش کردہ وسیع تخمینے سے واضح ہے کہ صرف ایک سال کی داخلہ مہم مسئلے کا مکمل حل نہیں ہو گی اور سکول کی گنجائش، اساتذہ، فاصلے، غربت، تحفظ اور سماجی رکاوٹوں پر بیک وقت کام درکار ہے۔
اگلا قابل پیمائش مرحلہ ضلع وار کلاس روم اور سکول منصوبوں کی تکمیل، متبادل مراکز میں داخلہ و حاضری، طالبات کے وظیفے کی حتمی منظوری اور مجموعی بجٹ کے حقیقی استعمال کی باقاعدہ اشاعت ہو گا۔ انہی نتائج سے معلوم ہو سکے گا کہ اعلان کردہ اقدامات سکول سے باہر بچوں، بالخصوص لڑکیوں، کی تعداد میں کتنی عملی کمی لاتے ہیں۔




