راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں 3 سے 5 ستمبر کے دوران کی گئی سکیورٹی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 21 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ فوجی بیان کے مطابق کارروائیاں شمالی وزیرستان، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت مختلف علاقوں میں کی گئیں اور ان کا ہدف ایسے مسلح عناصر تھے جنہیں آئی ایس پی آر نے ’فتنہ الخوارج‘ سے منسلک قرار دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں ایک کارروائی کے دوران مزید 10 دہشت گرد مارے گئے جو علاقے میں چھپے ہوئے تھے۔ فوجی ترجمان نے اس کارروائی کو پاکستان افغانستان سرحد کے قریب یکم ستمبر کی دراندازی کی کوشش کے بعد جاری سکیورٹی سرگرمیوں سے جوڑا اور کہا کہ اس سلسلے میں ہلاک ہونے والے مسلح افراد کی تعداد 25 تک پہنچ گئی ہے۔ شمالی وزیرستان میں ایک الگ فائرنگ کے تبادلے میں سات مزید دہشت گردوں کے مارے جانے کی اطلاع دی گئی۔
بیان کے مطابق کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مشترکہ کارروائیوں کے دوران مزید چار دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ سکیورٹی فورسز نے متعلقہ علاقوں میں سرچ اور سینیٹائزیشن کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں تاکہ کسی ممکنہ باقی ماندہ مسلح عنصر کی موجودگی کا جائزہ لیا جا سکے۔ فوج نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی مہم کے تحت ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ان ہلاکتوں اور مسلح عناصر کی وابستگی سے متعلق تفصیلات بنیادی طور پر آئی ایس پی آر کے سرکاری بیان پر مبنی ہیں؛ آزاد ذرائع سے ہر مقام پر ہونے والی جھڑپوں کی مکمل تفصیل فوری طور پر دستیاب نہیں تھی۔ خیبر پختونخوا میں حالیہ عرصے کے دوران سرحدی علاقوں اور جنوبی اضلاع میں عسکریت پسندوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد سرحد پار دراندازی، مقامی سہولت کاری اور حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے نیٹ ورکس کو محدود کرنا ہے۔
تازہ کارروائیوں میں مختلف اضلاع کا شامل ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ سکیورٹی ادارے ایک ہی وقت میں سرحدی اور اندرونی علاقوں میں متعدد اہداف کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ تاہم ہر واقعے کی آزادانہ تصدیق اور ہلاک افراد کی شناخت سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے پر ہی آپریشنز کی مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔




