پشاور: خیبرپختونخوا میں صوبے بھر کی ممکنہ طور پر غیر محفوظ اسکول عمارتوں کی نشاندہی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ صوبائی ایڈوائزری کونسل برائے تعلیم کے رکن ڈاکٹر عامر عبداللہ کے مطابق سوشل میڈیا پر اسکول عمارتوں کی حالت سے متعلق رپورٹس اور ویڈیوز سامنے آنے کے بعد متعلقہ حکام نے حفاظتی خطرات کی جانچ اور ضروری اقدامات کے لیے معلومات اکٹھی کرنا شروع کر دی ہیں۔
یہ اقدام پشاور میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اسپتال حکام نے اس حادثے میں کم از کم 30 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی ہلاکت جبکہ 50 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ اس سانحے کے بعد تعلیمی عمارتوں کی ساختی حفاظت اور بروقت معائنے کے معاملے پر توجہ بڑھی ہے۔
ڈاکٹر عامر عبداللہ نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹس متعلقہ حکام تک پہنچنا شروع ہو گئی ہیں، جس سے محکمہ تعلیم کو ممکنہ طور پر خطرناک عمارتوں کی شناخت اور حفاظتی اقدامات کے لیے بروقت کارروائی میں مدد مل رہی ہے۔ ان کے مطابق ایسے ڈھانچوں کی نشاندہی ضروری ہے جو طلبہ، اساتذہ یا دیگر عملے کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں۔
انہوں نے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے عملے کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہفتہ وار تعطیل کے باوجود ٹیموں نے موصول ہونے والی معلومات کا جائزہ لینے کے لیے کام جاری رکھا۔ شہریوں کی جانب سے غیر محفوظ عمارتوں کی ویڈیوز بنا کر متعلقہ حکام تک پہنچانے کو بھی اس عمل کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔
صوبائی مشیر نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں خطرناک حالات یا عمارتوں کی نشاندہی جاری رکھیں تاکہ حکام ابتدائی مرحلے میں خطرات کا جائزہ لے سکیں۔ موجودہ مرحلہ بنیادی طور پر شناخت اور ابتدائی جانچ کا ہے؛ ہر عمارت کے بارے میں حتمی ساختی فیصلہ متعلقہ معائنے اور حکام کی کارروائی کے بعد ہوگا۔ حکام کے مطابق مقصد طلبہ اور تعلیمی عملے کے لیے زیادہ محفوظ ماحول یقینی بنانا اور ممکنہ حادثات سے پہلے حفاظتی اقدامات کرنا ہے۔
