وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں دانش اسکول کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر بچے کو اس کے خاندان کی مالی یا سماجی حیثیت سے قطع نظر معیاری تعلیم اور بنیادی سہولتوں تک مساوی رسائی ملنی چاہیے۔ انہوں نے تقریب سے خطاب میں اس مؤقف کو قائداعظم محمد علی جناح کے فلاحی ریاست کے تصور سے جوڑا۔
وزیراعظم نے دانش اسکولوں کے سابق طلبہ کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ مناسب تعلیمی مواقع ملنے پر کم وسائل رکھنے والے گھرانوں کے بچے ڈاکٹر، انجینئر، پولیس افسر، سرکاری ملازم، سیلز مینیجر اور استاد بننے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے تقریب میں موجود طلبہ کی مشکلات اور کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کے والدین اور خاندانوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
شہباز شریف نے دانش اسکول منصوبے کے آغاز کو اپنے دورِ وزارت اعلیٰ پنجاب سے جوڑا اور کہا کہ 2010 میں اس پروگرام کا مقصد ایسے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا تھا جن کے خاندان مہنگے تعلیمی اداروں تک رسائی نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق تعلیمی نظام میں معاشی حیثیت کی بنیاد پر مواقع کا فرق کم کیے بغیر ملک کی انسانی صلاحیت سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔
اسلام آباد میں نئے دانش اسکول کے افتتاح کے ساتھ حکومت نے اس ماڈل کو وفاقی دارالحکومت تک وسعت دینے کا پیغام دیا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں ادارے کی مکمل گنجائش، سالانہ بجٹ، داخلہ معیار یا آئندہ مرحلے میں مزید اسکولوں کے شیڈول کی تمام تفصیلات شامل نہیں، اس لیے ان امور پر مزید سرکاری معلومات درکار ہوں گی۔
وزیراعظم کا خطاب بنیادی طور پر مساوی تعلیمی مواقع، سماجی نقل و حرکت اور ریاستی ذمہ داری پر مرکوز رہا۔ دانش اسکولوں کی کارکردگی کے وسیع پیمانے پر جائزے کے لیے داخلوں، تعلیمی نتائج، فی طالب علم لاگت اور فارغ التحصیل طلبہ کے طویل مدتی اعداد و شمار اہم ہوں گے۔ فی الحال تصدیق شدہ واقعہ اسلام آباد میں اسکول کا افتتاح اور وزیراعظم کی جانب سے مساوی تعلیم کے عزم کا اعادہ ہے۔
