ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے عام استعمال کی صحت سے متعلق آٹھ اقسام کی مصنوعات کو زیادہ سخت ریگولیٹری نگرانی کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانا اور عوامی صحت کے تحفظ کو مضبوط کرنا ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نئی نگرانی میں وٹامنز، غذائی سپلیمنٹس، میڈیکیٹڈ صابن، میڈیکیٹڈ شیمپو اور مخصوص نوعیت کے بچوں کے دودھ سمیت مختلف مصنوعات شامل ہیں۔ نئی ریگولیٹری ترتیب کے تحت متعلقہ مصنوعات کو پاکستان میں تیار یا فروخت کیے جانے سے پہلے قابل اطلاق رجسٹریشن، منظوری اور کوالٹی کنٹرول کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
ڈریپ کی کارروائی خاص طور پر ان مصنوعات کے لیے اہم ہے جو اپنے لیبل، تشہیر یا مارکیٹنگ میں طبی، علاجی یا صحت بہتر بنانے کے دعوے کرتی ہیں۔ ایسے دعووں کے ساتھ مارکیٹ ہونے والی مصنوعات کے لیے معیار، اجزا اور منظور شدہ استعمال سے متعلق نگرانی صارفین کو گمراہ کن یا غیر معیاری مصنوعات سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
دستیاب خبر مختصر ہے اور نوٹیفکیشن میں شامل تمام آٹھ زمروں کی مکمل فہرست، نفاذ کی تاریخ، عبوری مدت اور پہلے سے مارکیٹ میں موجود مصنوعات کے لیے طریقہ کار کی تفصیلات فراہم نہیں کرتی۔ اسی لیے کاروباری اداروں اور صارفین کے لیے مکمل ضابطہ جاتی اثرات ڈریپ کے اصل نوٹیفکیشن اور بعد کی ہدایات سے زیادہ واضح ہوں گے۔
یہ اقدام صحت مصنوعات کی مارکیٹ میں معیار اور ذمہ دارانہ دعووں کے لیے ریگولیٹری نگرانی بڑھانے کی سمت ایک پیش رفت ہے۔ تاہم اس کا عملی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ رجسٹریشن، لیبارٹری ٹیسٹنگ، مارکیٹ سرویلنس اور خلاف ورزی پر کارروائی کے طریقہ کار کو کس طرح نافذ کیا جاتا ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت نئی سخت نگرانی اور متعلقہ مصنوعات پر منظوری و کوالٹی کنٹرول کی شرائط کا اطلاق ہے۔
