خیبرپختونخوا کے محکمہ خوراک نے صوبے میں سرکاری گندم کے یومیہ اجرا کا کوٹہ 3,000 میٹرک ٹن سے بڑھا کر 4,000 میٹرک ٹن کر دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ فیصلہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے اور کابینہ کی نگرانی کمیٹی کی ہدایات کے بعد کیا گیا، جبکہ اضافی ایک ہزار میٹرک ٹن گندم فعال فلور ملز کو فراہم کی جائے گی۔
محکمہ خوراک کے نوٹیفکیشن کے مطابق اضافی گندم نیشنل ریزرو سینٹر ازاخیل کے گوداموں سے جاری ہوگی اور اسے صوبے کے اضلاع میں 4 کروڑ 38 لاکھ 40 ہزار کی آبادی کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا۔ ڈائریکٹر فوڈ نے ضلعی فوڈ کنٹرولرز اور راشننگ کنٹرولرز کو نئی تقسیم پر عمل درآمد کی ہدایات جاری کردی ہیں۔
نئے انتظام کے تحت پشاور کو روزانہ اضافی 116 میٹرک ٹن، مردان کو 67 ٹن، صوابی کو 46 ٹن، چارسدہ کو 45 ٹن، نوشہرہ کو 43 ٹن اور لوئر دیر کو 40 ٹن گندم ملے گی۔ دیگر اضلاع میں بھی ان کے مقررہ تناسب کے مطابق اضافی کوٹہ تقسیم کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس گندم سے تیار ہونے والا سرکاری آٹا مجاز ڈیلرز کے ذریعے مقررہ نرخوں پر صارفین تک پہنچایا جائے گا۔
اضافی اجرا کا ایک سبب ازاخیل کے ذخائر کو حالیہ فلیش فلڈ سے پہنچنے والا نقصان بھی بتایا گیا ہے۔ اسٹوریج اینڈ انفورسمنٹ افسر کی رپورٹ کے مطابق سیلابی پانی گوداموں میں داخل ہوا اور گندم کی بوریوں کی نچلی تہیں متاثر ہوئیں۔ مرکز کے 11 میں سے چھ گوداموں کو نقصان پہنچا جبکہ پانچ محفوظ رہے۔ رپورٹ میں مزید بارش کے امکان کے پیش نظر ذخیرہ جلد استعمال کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
شفافیت کے لیے ضلعی حکام کو فعال فلور ملز کی تصدیق شدہ فہرست اجرا کمیٹی کو فراہم کرنا ہوگی اور گندم کی الاٹمنٹ، نقل و حمل اور اجرا کا ریکارڈ آئی سی ٹی ایپلی کیشن پر فوری اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔ اضافی کوٹہ بذات خود صارف قیمت میں کمی کی ضمانت نہیں؛ اس کا اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ گندم مقررہ ملز تک پہنچے، آٹا سرکاری نرخ پر فروخت ہو اور نگرانی کا نظام مؤثر رہے۔

