پشاور: سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں انٹیلی جنس بنیاد پر کی گئی کارروائی میں چار مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سرکاری میڈیا اور متعدد پاکستانی خبر رساں اداروں کے مطابق کارروائی میں مارے جانے والوں میں افغان شہری عبیداللہ سعد بھی شامل تھا، جسے سکیورٹی ذرائع نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک قرار دیا۔
ریڈیو پاکستان، ایکسپریس ٹریبیون اور دیگر رپورٹس میں سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ عبیداللہ سعد ولد غلام غوث صالحی افغانستان کے صوبہ لوگر کے گاؤں شاہی قلعہ کا رہائشی تھا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ وہ پاکستان میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا۔ ان دعوؤں کی تفصیلی عدالتی یا آزادانہ دستاویزات رپورٹوں میں فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے اس نسبت کو سکیورٹی حکام کے مؤقف کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔
ایکسپریس اردو اور دنیا نیوز کے مطابق کارروائی 8 ستمبر کو کی گئی تھی، جبکہ اس کی تفصیلات 11 ستمبر کو سامنے آئیں۔ آپریشن کے مقام، جھڑپ کے دورانیے، برآمد ہونے والے اسلحے یا فورسز کے ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں دستیاب سرکاری رپورٹوں میں تفصیلی معلومات نہیں دی گئیں۔
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے ریاست مخالف عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کرم میں کارروائی پر سکیورٹی فورسز کی تعریف کی اور اسے انسداد دہشت گردی کی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔
پاکستان کے سرحدی اضلاع میں حالیہ عرصے کے دوران عسکریت پسند گروہوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکام افغان سرزمین سے ہونے والی مبینہ دراندازی اور وہاں موجود جنگجو نیٹ ورکس پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں، جبکہ ایسے الزامات علاقائی سفارتی تناؤ کا بھی حصہ ہیں۔ کرم کی اس کارروائی سے متعلق بنیادی معلومات سکیورٹی اور سرکاری ذرائع پر مبنی ہیں اور ہلاک افراد کے خلاف مخصوص مقدمات یا الزامات کی آزادانہ تصدیق فی الحال سامنے نہیں آئی۔




