لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی ان ہدایات پر عبوری طور پر عمل درآمد روک دیا ہے جن کے تحت پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کو افغانستان واپس جانے کا کہا گیا تھا۔ عدالت نے متاثرہ طلبہ کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے جواب طلب کیا اور معاملے کی مزید سماعت کے لیے تاریخ مقرر کر دی۔
عدالتی کارروائی جسٹس خالد اسحاق کے روبرو ہوئی۔ درخواست گزاروں میں لاہور کے مختلف طبی اداروں میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ شامل ہیں۔ دستیاب عدالتی رپورٹنگ کے مطابق پی ایم ڈی سی نے یکم ستمبر کو طبی اور دندان سازی کے اداروں کو سابقہ پالیسی ہدایات پر عمل کی تاکید کرتے ہوئے موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان شہریوں کے داخلے، پلیسمنٹ، منتقلی یا دیگر سہولت سے متعلق پابندیاں بیان کی تھیں اور پہلے سے زیرِ تعلیم افغان طلبہ کی واپسی کا بھی کہا تھا۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں کئی برس کی تعلیم کے بعد اس مرحلے پر اداروں سے نکالنا ان کے تعلیمی حقوق اور قانونی تحفظات کو متاثر کرے گا۔ لاہور ہائیکورٹ نے عبوری حکم میں طلبہ کو اپنی تعلیم جاری رکھنے، امتحانات میں شرکت کرنے اور ہاسٹل سمیت متعلقہ تعلیمی سہولتوں تک رسائی دینے کی ہدایت کی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق عدالت نے یہ بھی کہا کہ متاثرہ طلبہ کے امتحانی پرچے منسوخ نہ کیے جائیں اور انہیں کسی منفی کارروائی سے پہلے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
پی ایم ڈی سی کے وکیل کی جانب سے سماعت کے دوران یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ بعض افغان طلبہ کے پاس پاکستان میں قیام اور تعلیم جاری رکھنے کے لیے درکار دستاویزات مکمل نہیں۔ عدالت نے اس مؤقف کو حتمی طور پر طے نہیں کیا بلکہ فی الحال طلبہ کے خلاف فوری کارروائی روک دی ہے۔ اس لیے عدالتی حکم کو پی ایم ڈی سی کی پالیسی کی حتمی منسوخی قرار نہیں دیا جا سکتا؛ بنیادی قانونی سوالات آئندہ سماعت میں زیرِ غور رہیں گے۔
یہ مقدمہ پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان شہریوں کی قانونی حیثیت، ویزا دستاویزات اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریوں کے تناظر میں اہم ہے۔ عدالت کا موجودہ فیصلہ عبوری نوعیت کا ہے اور فریقین کے تفصیلی جواب کے بعد ہی مقدمے کے حتمی قانونی نتائج سامنے آئیں گے۔




