اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے مختلف حصوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ بڑھنے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی علاقے میں بجلی کی بندش دو گھنٹے سے زیادہ نہ ہونے دی جائے۔ یہ ہدایات جمعہ کو اسلام آباد میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہونے والے اجلاس میں جاری کی گئیں۔
وزیراعظم آفس کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ علاقائی صورتحال، خصوصاً آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی کے تناظر میں ری گیسیفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ بجلی کی ترسیل سے متعلق مشکلات نے بھی پیداوار پر اثر ڈالا، جس کے نتیجے میں طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑ رہی ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو آر ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹ دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب تمام وسائل کو مؤثر طور پر استعمال کیا جائے تاکہ بجلی کی بندش کسی بھی علاقے میں مقررہ دو گھنٹے کی حد سے تجاوز نہ کرے۔ یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب درآمدی گیس کی فراہمی میں علاقائی بحران کے باعث غیر یقینی بڑھی ہے اور توانائی کے نظام پر دباؤ محسوس کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں، یعنی ڈسکوز، کی سطح پر صارفین کی شکایات کے ازالے کے لیے کمیٹیاں قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ان کمیٹیوں میں عوامی نمائندے شامل کیے جائیں اور انہیں ایک ہفتے کے اندر مکمل طور پر فعال کیا جائے۔ حکام نے بتایا کہ صارفین 118 ہیلپ لائن کے ذریعے شکایت درج کرا سکتے ہیں، جس کے بعد انہیں ٹوکن نمبر اور مسئلے کے حل کے لیے متوقع وقت فراہم کیا جاتا ہے۔
حکام نے مون سون سے متعلق صورتحال پر بھی بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ راجن پور ضلع کے چھ صارفین کے سوا ملک بھر میں حالیہ بارشوں کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر نہیں ہو رہی۔ حکومت کی تازہ ہدایات کا عملی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ آر ایل این جی کی فراہمی اور ترسیلی رکاوٹوں کو کتنی جلدی دور کیا جاتا ہے اور تقسیم کار کمپنیاں دو گھنٹے کی حد پر کس حد تک عمل کراتی ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزرا اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ حکومت نے فی الحال لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا بلکہ موجودہ قلت کے دوران بندش کی زیادہ سے زیادہ مدت محدود رکھنے اور صارف شکایات کے فوری ازالے پر توجہ مرکوز کی ہے۔




