لاہور: پاکستان ریلوے نے لاہور کینٹ ریلوے اسٹیشن پر کمپیوٹر بیسڈ انٹرلاکنگ، یعنی CBI، سگنلنگ نظام نصب کرکے فعال کردیا ہے۔ جدید نظام دہائیوں سے استعمال ہونے والے دستی پوائنٹ یا ’’کانٹا‘‘ سسٹم کی جگہ لے گا اور ٹرینوں کے راستوں، سگنلز اور پوائنٹس کو مربوط کمپیوٹر کنٹرول کے تحت چلانے میں مدد دے گا۔ ریلوے حکام کے مطابق اس تبدیلی کا بنیادی مقصد آپریشنل حفاظت بہتر بنانا ہے۔
لاہور ڈویژن میں جدید سگنلنگ کی تنصیب کا عمل پہلے شاہدرہ اسٹیشن سے شروع ہوا تھا، جس کے بعد رائیونڈ اور اوکاڑہ کینٹ سمیت دیگر اسٹیشنوں پر بھی یہ سہولت فراہم کی گئی۔ لاہور کینٹ اسٹیشن کے یارڈ کی پیچیدہ ساخت کے باعث یہاں CBI نظام کو ترجیحی بنیاد پر ضروری قرار دیا گیا تھا۔ ریلوے کا کہنا ہے کہ لاہور کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر بھی آنے والے مہینوں میں اسی نوعیت کا نظام نصب کرنے کا منصوبہ ہے۔
کمپیوٹر بیسڈ انٹرلاکنگ کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ متضاد ٹرین راستوں کو بیک وقت کلیئر ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔ نظام پوائنٹس اور سگنلز کے درمیان منطقی حفاظتی شرائط نافذ کرتا ہے، جس سے انسانی غلطی کے بعض امکانات کم ہوتے ہیں۔ تاہم جدید سگنلنگ کے باوجود محفوظ آپریشن کے لیے آلات کی باقاعدہ دیکھ بھال، عملے کی تربیت، بجلی اور مواصلاتی نظام کا تسلسل ضروری رہتا ہے۔
پاکستان ریلوے کا بڑا حصہ پرانے انفراسٹرکچر پر چلتا ہے اور مختلف روٹس پر سگنلنگ، پٹری اور اسٹیشن سہولیات کی جدید کاری طویل عرصے سے ضرورت سمجھی جاتی ہے۔ CBI جیسے نظام مصروف اسٹیشنوں پر ٹرینوں کی آمد و رفت کو زیادہ منظم کرنے اور یارڈ میں پوائنٹ سیٹنگ کے عمل کو تیز کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس سے وقت کی پابندی بہتر ہونے کا امکان بھی پیدا ہوتا ہے، اگر دیگر آپریشنل رکاوٹیں قابو میں رہیں۔
لاہور کینٹ میں نظام کی تنصیب پورے ریلوے نیٹ ورک کی مکمل جدید کاری نہیں بلکہ مرحلہ وار اپ گریڈ کا ایک حصہ ہے۔ اس کے اثرات کا اندازہ آنے والے آپریشنل ریکارڈ، سگنل خرابیوں، ٹرین تاخیر اور حفاظتی کارکردگی سے ہوگا۔ لاہور مرکزی اسٹیشن سمیت باقی اہم مقامات پر منصوبہ بروقت مکمل ہوتا ہے تو ڈویژن کے اندر ٹرین کنٹرول میں زیادہ یکساں جدید نظام قائم ہوسکتا ہے۔

