لاہور: پاکستان ریلوے نے لاہور کینٹ ریلوے اسٹیشن پر نیا کمپیوٹرائزڈ سگنلنگ نظام فعال کردیا ہے، جس کا مقصد ٹرینوں کی نقل و حرکت کو زیادہ محفوظ اور منظم بنانا ہے۔ نئے نظام کے ذریعے آپریٹرز کمپیوٹر انٹرفیس سے سگنلز اور ٹریک پوائنٹس کنٹرول کرسکتے ہیں، جبکہ کسی ٹرین کو آگے بڑھنے کی اجازت دینے سے پہلے منتخب راستے کی دستیابی اور ممکنہ متضاد حرکتوں کی جانچ کی جاتی ہے۔

ریلوے سگنلنگ کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ایک ہی ٹریک یا باہم متصادم راستوں پر دو ٹرینوں کو بیک وقت اجازت نہ ملے۔ کمپیوٹرائزڈ انٹرلاکنگ اس عمل میں انسانی آپریٹر کی مدد کرتی ہے اور پہلے سے طے شدہ حفاظتی منطق کے مطابق روٹ سیٹ ہونے کی تصدیق کرتی ہے۔ لاہور کینٹ جیسے مصروف اسٹیشن پر یہ نظام ٹرین آپریشن کی ترتیب اور حفاظت دونوں کے لیے اہم ہے۔

نئے نظام میں فیل سیف ڈیزائن شامل ہے، یعنی خرابی یا غیر یقینی حالت پیدا ہونے کی صورت میں سگنلز کو ایسی محدود حالت میں جانا چاہیے جو ٹرین کو غیر محفوظ طریقے سے آگے بڑھنے سے روکے۔ اس نوعیت کا ڈیزائن ریلوے سگنلنگ کے جدید نظاموں کا بنیادی اصول ہے کیونکہ تکنیکی خرابی کے وقت ترجیح ٹریفک جاری رکھنے کے بجائے محفوظ حالت برقرار رکھنا ہوتی ہے۔

پاکستان ریلوے کے نیٹ ورک کے کئی حصوں میں پرانا سگنلنگ اور ٹریک انفراسٹرکچر اپ گریڈ کی ضرورت رکھتا ہے۔ کمپیوٹرائزڈ نظاموں کی توسیع سے آپریشنل ڈیٹا بہتر طریقے سے ریکارڈ کیا جاسکتا ہے اور خرابیوں کی تشخیص میں بھی مدد مل سکتی ہے، تاہم جدید نظام کی افادیت مستقل دیکھ بھال، تربیت یافتہ عملے، قابل اعتماد بجلی اور اسپیئر پارٹس کی دستیابی سے وابستہ رہتی ہے۔

لاہور کینٹ پر نئی تنصیب کو پورے ریلوے نیٹ ورک کی مکمل جدید کاری نہیں سمجھا جاسکتا، لیکن یہ اہم اسٹیشنوں پر سگنلنگ اپ گریڈ کی سمت ایک عملی قدم ہے۔ آئندہ اس طرح کے نظام مزید مقامات تک پھیلانے، ان کی کارکردگی کی نگرانی اور عملے کی مسلسل تربیت سے ہی حفاظت اور وقت کی پابندی میں وسیع سطح پر بہتری کا اندازہ ہوسکے گا۔