لاہور: پنجاب کے ڈرگ کنٹرول حکام نے لاہور میں کارروائی کے دوران مبینہ طور پر جعلی فلو ویکسین کا بڑا ذخیرہ ضبط کیا ہے اور دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جیو نیوز کی 29 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق کارروائی ایسے وقت ہوئی جب ملک میں معروف کمپنیوں کی اصل فلو ویکسین کی دستیابی محدود ہے اور حکام غیر تصدیق شدہ مصنوعات کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں ایک متعلقہ افسر کے حوالے سے بتایا گیا کہ لاہور کے ڈرگ انسپکٹرز نے چھاپے کے دوران مشتبہ ویکسین قبضے میں لی اور دو افراد کو موقع سے حراست میں لیا۔ ضبط شدہ مقدار، مقام اور ملزمان کی شناخت فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور ڈرگز ایکٹ 1976 کے تحت مقدمہ درج کرنے کا عمل زیر غور ہے۔ چونکہ معاملہ ابھی تفتیشی مرحلے میں ہے، ضبط شدہ مصنوعات کو عدالتی طور پر ثابت شدہ جعلی ویکسین اور زیر حراست افراد کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
چیف ڈرگ کنٹرولر پنجاب کے دفتر سے وابستہ ایک افسر نے بتایا کہ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ویکسین اس وقت مارکیٹ میں دستیاب نہیں، جبکہ چینی ویکسین کے محدود ذخائر بھی ختم ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق بعض معروف کمپنیوں کی نئی محدود کھیپ نومبر کے آخر یا دسمبر میں آنے کا امکان ہے۔ یہ اندازہ سپلائی سے متعلق ہے اور حتمی دستیابی درآمد، منظوری اور تقسیم کے مراحل سے مشروط رہے گی۔
حکام نے شہریوں سے کہا ہے کہ فلو ویکسین صرف لائسنس یافتہ فارمیسی سے خریدیں، کولڈ چین برقرار ہونے کی تصدیق کریں، بیچ نمبر دیکھیں اور مینوفیکچرر کی مہر چیک کریں۔ موسمی انفلوئنزا کی ویکسین عموماً سردیوں سے پہلے لگائی جاتی ہے، خصوصاً عمر رسیدہ افراد، بچوں، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں میں مبتلا لوگوں کے لیے طبی مشورے کے مطابق اس کی اہمیت زیادہ ہو سکتی ہے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے گزشتہ ہفتے ملک گیر فلو ویکسین کی مکمل عدم دستیابی کی رپورٹس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلہ بعض مخصوص برانڈز کی قیمت اور دستیابی سے متعلق ہے۔ موجودہ چھاپہ اس وسیع بحث سے الگ ایک نفاذی کارروائی ہے، جس کی مزید تفصیلات تفتیش اور لیبارٹری تصدیق کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔

