اسلام آباد: وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور ڈنمارک میں قائم انٹرنیشنل سینٹر فار اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس سلوشنز (ICARS) نے پاکستان کے پولٹری شعبے میں اینٹی مائیکروبیل مزاحمت کم کرنے کے لیے تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ سرکاری تفصیلات کے مطابق آئی کارس تین سالہ تحقیقی منصوبے کے لیے 540,855 امریکی ڈالر فراہم کرے گا، جس کا مقصد اینٹی بایوٹکس کے متبادل طریقوں کی مؤثریت جانچنا ہے۔

منصوبے کی قیادت یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کرے گی جبکہ پولٹری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ راولپنڈی اس میں شراکت دار ہوگا۔ تحقیق کے لیے 30 پولٹری فارمز پر رینڈمائزڈ کنٹرولڈ ٹرائل کیا جائے گا۔ ان میں سے 15 فارمز پر مداخلتی طریقہ آزمایا جائے گا اور 15 کو کنٹرول گروپ کے طور پر استعمال کیا جائے گا تاکہ نتائج کا تقابلی جائزہ ممکن ہو۔

آئی کارس کے ماہرین کے مطابق تحقیق میں نامیاتی تیزابوں کو اینٹی بایوٹکس کے ممکنہ متبادل کے طور پر آزمایا جائے گا۔ منصوبہ اینٹی بایوٹک کے استعمال، جراثیم میں مزاحمت، مرغیوں کی صحت اور فارم کی مجموعی کارکردگی پر اثرات کا جائزہ لے گا۔ تحقیقی ہدف یہ ہے کہ پیداوار متاثر کیے بغیر اینٹی مائیکروبیل علاج کی ضرورت میں کم از کم 20 فیصد کمی کے امکان کو سائنسی طور پر جانچا جائے۔ یہ ہدف منصوبے کا تحقیقی مقصد ہے، پہلے سے حاصل شدہ نتیجہ نہیں۔

وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے ورچوئل دستخطی تقریب میں کہا کہ اینٹی مائیکروبیل مزاحمت انسانی اور حیوانی صحت کے ساتھ خوراک کے تحفظ اور زرعی پیداوار کے لیے بھی سنجیدہ خطرہ ہے۔ انہوں نے ذمہ دارانہ اینٹی بایوٹک استعمال اور شواہد پر مبنی مداخلتوں کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ تحقیق کے نتائج کسانوں کے لیے عملی فائدے اور پاکستان کے قومی ایکشن پلان برائے اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کے نفاذ میں معاون ہونے چاہئیں۔

منصوبے میں صرف طبی یا حیاتیاتی نتائج نہیں بلکہ اینٹی بایوٹکس کے متبادل اپنانے کی معاشی قابلِ عملیت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ اس پہلو کی اہمیت اس لیے ہے کہ کسی بھی متبادل طریقے کو وسیع پیمانے پر اختیار کرنے کے لیے فارم کی لاگت، پیداوار اور جانوروں کی صحت تینوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔ کامیاب نتائج کی صورت میں حاصل ہونے والے شواہد کو پولٹری صنعت میں وسیع تر پالیسی یا عملی رہنمائی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ تعاون ون ہیلتھ نقطۂ نظر سے بھی اہم ہے، جس میں انسانی صحت، جانوروں اور ماحول کے باہمی تعلق کو ایک مشترکہ صحت مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم تحقیق ابھی شروع ہونے والے مرحلے میں ہے اور نامیاتی تیزابوں کی مؤثریت، 20 فیصد کمی کے ہدف یا پورے پاکستانی پولٹری شعبے میں ممکنہ اطلاق کے بارے میں حتمی نتیجہ ٹرائل مکمل ہونے اور اعدادوشمار کے تجزیے کے بعد ہی اخذ کیا جا سکے گا۔