راولپنڈی: انسداد دہشت گردی عدالت نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ کو سکیورٹی بریچ مقدمے میں 10، 10 سال قید کی سزا سنادی ہے۔ مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا تھا اور اس کا تعلق اکتوبر 2024 میں ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کے دوران پیش آنے والے واقعے سے ہے۔

استغاثہ کا مقدمہ یہ تھا کہ دونوں ملزمان نے سکیورٹی انتظامات میں مداخلت کرتے ہوئے ایسا طرزِ عمل اختیار کیا جس سے ریاستی امور اور غیر ملکی ٹیم کی سکیورٹی متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہوا۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد دونوں کو سزا سنائی۔ یہ عدالتی سزا ہے، تاہم ملزمان کے پاس متعلقہ اعلیٰ عدالتوں میں فیصلے کو چیلنج کرنے کے قانونی راستے موجود ہیں۔

دفاعی وکیل ایمل مندوخیل نے فیصلہ سنائے جانے سے قبل مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے سے متعلق درخواستیں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں، اس لیے انسداد دہشت گردی عدالت کو فیصلہ مؤخر کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ مقدمے کی منتقلی سے متعلق درخواست ہائی کورٹ کے سامنے موجود ہے۔ عدالت نے دفاع کی یہ استدعا قبول نہیں کی اور فیصلہ سنادیا۔

ڈان اور جیو نیوز کے مطابق یہ مقدمہ اس واقعے سے پیدا ہوا جس میں وکیل جوڑے پر الزام تھا کہ انہوں نے غیر ملکی کرکٹ ٹیم کے دورے کے دوران سکیورٹی پروٹوکول میں مداخلت کی۔ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ مقدمے کے دوران الزامات اور کارروائی کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے رہے ہیں اور اسے اپنے انسانی حقوق کے کام سے منسلک ہراسانی قرار دیتے رہے۔ یہ ان کا دفاعی مؤقف ہے؛ عدالت نے موجودہ مقدمے میں انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی ہے۔

مقدمے میں قانونی تنازع صرف واقعے کے حقائق تک محدود نہیں رہا بلکہ ٹرائل کے مقام، زیر التوا درخواستوں اور عدالتی کارروائی کے وقت سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے۔ دفاع کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدالتوں میں موجود درخواستوں کے فیصلے تک حتمی حکم نہیں سنایا جانا چاہیے، جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت نے کارروائی مکمل کرتے ہوئے سزا جاری کردی۔

فیصلے کے بعد اگلا اہم مرحلہ ممکنہ اپیل ہوگا۔ سزا سنائے جانے سے مقدمہ پہلی سطح پر فیصلہ شدہ ہوگیا ہے، لیکن کسی اپیل، سزا کی معطلی یا اعلیٰ عدالت کے آئندہ حکم کے بارے میں پیشگی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ رپورٹنگ میں سزا کو عدالت کا موجودہ فیصلہ اور ملزمان کے اعتراضات کو دفاعی مؤقف کے طور پر الگ رکھنا ضروری ہے۔