کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے گل پلازا میں جنوری 2026 کی مہلک آتشزدگی کے مقدمے میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پولیس کا حتمی چالان قبول کر لیا ہے۔ واقعے میں کم از کم 73 افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ ایک ہزار سے زیادہ دکانیں آگ سے تباہ یا شدید متاثر ہوئی تھیں۔
جوڈیشل مجسٹریٹ عاصم اسلم نے پانچ دکانداروں کی درخواست پر فیصلہ سنایا، جنہوں نے ایف آئی آر میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے دوسرے تفتیشی افسر کی جانب سے پیش کیا گیا حتمی چالان قبول کر لیا۔ یہ فیصلہ مقدمے میں قابلِ اطلاق الزامات کے موجودہ دائرے کا تعین کرتا ہے، تاہم نامزد افراد کی حتمی مجرمانہ ذمہ داری ٹرائل کے بعد ہی طے ہوگی۔
پولیس چالان میں گل پلازا مینجمنٹ کمیٹی کے چار ارکان، تنویر پاستا، عمار اسماعیل، محمد رمضان اور محمد امین کے ساتھ مصنوعی پھولوں کی دکان کے مالک نعمت اللہ اور ان کے 11 سال سے زائد عمر کے بیٹے حذیفہ کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ تفتیشی افسر نے مقدمے میں 87 استغاثہ گواہوں کی فہرست بھی پیش کی ہے۔
تحقیقات میں نامزد افراد کے خلاف مبینہ مجرمانہ غفلت اور لاپروائی سے متعلق پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات لگائی گئی ہیں۔ پولیس نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور ضلعی انتظامیہ کو اپنی حتمی رپورٹ میں غفلت کے الزام سے بری قرار دیا۔ یہ پولیس تحقیق کا نتیجہ ہے اور عدالتی ٹرائل میں شواہد کا الگ جائزہ لیا جائے گا۔
گل پلازا میں آگ 17 جنوری کی رات لگی تھی اور اسے مکمل طور پر بجھانے میں تقریباً دو دن لگے۔ بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور کاروباری تباہی کے بعد عمارت کی فائر سیفٹی، ہنگامی اخراج، انتظامی ذمہ داری اور شہری اداروں کی نگرانی پر شدید سوالات اٹھے تھے۔ پولیس نے ابتدائی چالان جولائی میں پیش کیا تھا، مگر عدالت نے اسے مسترد کرکے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کی سطح پر مزید جامع تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
تازہ عدالتی حکم سے مقدمہ اب حتمی چالان میں شامل الزامات کے تحت آگے بڑھے گا۔ قتل یا دہشت گردی کی دفعات شامل نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ نامزد ملزمان بری ہوگئے ہیں؛ ان کے خلاف غفلت اور دیگر متعلقہ الزامات کا ٹرائل ہونا باقی ہے۔ متاثرہ خاندانوں اور دکانداروں کے لیے آئندہ عدالتی کارروائی میں شواہد، ذمہ داری اور ممکنہ سزا یا بریت کا تعین بنیادی اہمیت رکھے گا۔
