اسلام آباد: وزارت قومی صحت نے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کے لیے بارڈر ہیلتھ سروسز کے ذریعے چلنے والا موجودہ ویکسینیشن انتظام ختم کرتے ہوئے میننگوکوکل میننجائٹس اور انفلوئنزا ویکسین کی خریداری کے لیے نیا ٹینڈر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کے مطابق نیا خریداری عمل تقریباً ایک ماہ میں شروع کیا جائے گا۔

ڈان کے مطابق یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر بارڈر ہیلتھ سروسز کے معاملات کی اعلیٰ سطحی انکوائری کے بعد سامنے آیا۔ رپورٹ میں سابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کنٹریکٹ کے طریقۂ کار میں سنگین خامیوں اور مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔ حکام نے موجودہ ویکسینیشن عمل روک دیا ہے اور مذہبی زائرین اور بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے افراد کو عبوری مدت میں لازمی ویکسین اپنے ٹریول ایجنٹس کے ذریعے حاصل کرنے کا کہا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سابق انتظام میں خریداری اور انتظامی فیصلوں کے حوالے سے ایسے معاملات سامنے آئے جن پر تحقیقات کی گئیں اور بعض اہلکاروں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ حکام پر الزام ہے کہ انہوں نے وزارت کے معمول کے انتظامی ڈھانچے سے ہٹ کر متوازی خریداری کمیٹیوں کے ذریعے بعض فیصلے کیے۔ یہ الزامات تفتیش اور متعلقہ قانونی کارروائی کا حصہ ہیں اور گرفتار یا نامزد افراد کے خلاف حتمی ذمہ داری کا تعین مجاز فورم پر ہونا ہے۔

میننگوکوکل میننجائٹس سمیت بعض ویکسین مخصوص ممالک کے سفر، بالخصوص مذہبی زیارات کے لیے لازمی یا اہم سفری صحت تقاضوں میں شامل ہوسکتی ہیں۔ اسی لیے موجودہ نظام ختم ہونے اور نئے ٹینڈر کے درمیان عبوری انتظام ہزاروں مسافروں کے لیے عملی اہمیت رکھتا ہے۔ وزارت نے مستقل نظام بحال ہونے تک مسافروں کو متبادل طریقے سے مطلوبہ ویکسینیشن مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے تصدیق کی کہ بارڈر ہیلتھ سروسز کے سابق ویکسینیشن سیٹ اپ کو ختم کردیا گیا ہے۔ نئے ٹینڈر کا مقصد خریداری کے عمل کو دوبارہ منظم کرنا اور سابق معاہدے میں سامنے آنے والی خامیوں کے بعد زیادہ شفاف طریقۂ کار اختیار کرنا بتایا گیا ہے۔ تاہم نئے کنٹریکٹ کی مالیت، ممکنہ سپلائرز اور حتمی نفاذ کی تاریخ ابھی طے ہونا باقی ہے۔

یہ پیش رفت صحت کے شعبے میں سرکاری خریداری، نگرانی اور بیرون ملک سفر کرنے والوں کے لیے ضروری طبی سہولتوں کی دستیابی سے متعلق اہم انتظامی تبدیلی ہے۔ نئے نظام کے نفاذ تک متعلقہ حکام کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مسافروں کو مستند ویکسین، درست سرٹیفکیٹ اور سفری تقاضوں کے بارے میں واضح معلومات دستیاب رہیں۔