لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے ٹیکس معاملات میں ایک اہم قانونی نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا کسی حکم نامے کو صرف IRIS پورٹل پر اپ لوڈ کر دینا بذات خود ٹیکس دہندہ کو قانونی طور پر حکم پہنچانے کے مترادف نہیں۔ عدالت نے انکم ٹیکس قواعد میں درج الیکٹرانک ترسیل کے طریقہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ ضابطوں کی شرائط پوری ہونا ضروری ہیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق انکم ٹیکس رولز میں الیکٹرانک ایڈریس کے لیے فیکس نمبر یا ای میل ایڈریس کا تصور موجود ہے اور الیکٹرانک ترسیل کے مؤثر ہونے کے لیے ٹرانسمیشن کی تصدیق بھی درکار ہوتی ہے۔ اس تناظر میں محض ٹیکس انتظامیہ کے آن لائن IRIS نظام میں دستاویز ڈال دینا اس وقت تک کافی نہیں سمجھا جا سکتا جب تک قانون اور قواعد میں مقرر کردہ سروس یا ترسیل کی شرائط پوری نہ ہوں۔

یہ قانونی تشریح ٹیکس دہندگان کے لیے اس لیے اہم ہے کہ کسی حکم کی مؤثر ترسیل سے اپیل، جواب یا دیگر قانونی کارروائی کی مدت شروع ہونے کا سوال جڑا ہو سکتا ہے۔ اگر کسی شخص یا کاروبار کو حکم قانون کے مطابق پہنچایا ہی نہ گیا ہو تو محض پورٹل پر موجودگی کو بنیاد بنا کر اس کے خلاف مدت ختم ہونے کا مؤقف پیچیدہ قانونی تنازع پیدا کر سکتا ہے۔ عدالت کا فیصلہ اسی طریقہ کار اور قانونی نوٹس کے اصول پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ IRIS پورٹل کی قانونی حیثیت ختم ہو گئی ہے یا ایف بی آر آن لائن نظام استعمال نہیں کر سکتا۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل انتظامی سہولت کو متعلقہ قانون اور قواعد میں مقرر کردہ ترسیل کے طریقوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ ٹیکس دہندگان اور محکمے دونوں کے لیے اس فیصلے کا عملی اثر آئندہ نوٹسز اور احکامات کی سروس کے طریقہ کار پر پڑ سکتا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں عدالت نے خاص طور پر قواعد کے متن اور ٹرانسمیشن کی تصدیق کی ضرورت پر زور دیا، اس لیے فیصلے کو کسی وسیع تر ٹیکس واجبات کی منسوخی کے بجائے قانونی ترسیل کے مخصوص سوال تک محدود سمجھنا درست ہوگا۔