آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے اکتوبر 2026 کے لیے ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس، یعنی آر ایل این جی، کی فروخت قیمتوں میں 15.3 فیصد تک اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئی قیمتیں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے نظام کے لیے مقرر کی گئی ہیں اور اس اضافے کی بنیادی وجہ عالمی خام تیل کی بلند قیمتوں کو قرار دیا گیا ہے۔
اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی ناردرن کے لیے ٹرانسمیشن مرحلے پر آر ایل این جی کی قیمت ستمبر کے 13.99 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھ کر اکتوبر میں 15.94 ڈالر ہو گئی، جو تقریباً 13.9 فیصد اضافہ ہے۔ تقسیم کے مرحلے پر اسی کمپنی کی قیمت 15.196 ڈالر سے بڑھا کر 17.33 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی، یعنی تقریباً 14 فیصد اضافہ۔
سوئی سدرن کے لیے ٹرانسمیشن قیمت 12.611 ڈالر سے بڑھ کر 14.53 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی، جو 15.25 فیصد اضافہ بنتا ہے۔ تقسیم کے مرحلے پر قیمت 14.22 ڈالر سے بڑھا کر 16.396 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی، یعنی تقریباً 15.27 فیصد اضافہ۔ یہ اضافہ ستمبر میں آر ایل این جی قیمت میں تقریباً 20 فیصد کمی کے بعد سامنے آیا ہے۔
اکتوبر میں دو درآمدی ایل این جی کارگوز کی اوسط ڈیلیورڈ ایکس شپ قیمت 10.75 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو رہی، جو ستمبر میں 10.06 ڈالر تھی۔ دونوں کارگو قطر سے طویل مدتی معاہدوں کے تحت آئے۔ ریگولیٹری قیمت میں درآمدی لاگت کے علاوہ بندرگاہی اخراجات، درآمد کنندگان کے مارجن، ریٹینج اور گیس کمپنیوں کے نظامی نقصانات بھی شامل ہوتے ہیں۔
سوئی ناردرن پنجاب اور خیبرپختونخوا میں صارفین کو گیس فراہم کرتی ہے اور اس کے تقسیم کے نظام میں نقصانات تقریباً نو فیصد رپورٹ ہوئے، جبکہ سوئی سدرن سندھ اور بلوچستان میں خدمات فراہم کرتی ہے اور اس کے تقسیم کے نقصانات 12.55 فیصد بتائے گئے ہیں۔ ان نقصانات اور دیگر سپلائی چین اخراجات کے باعث صارف تک پہنچنے والی آر ایل این جی کی قیمت درآمدی قیمت سے نمایاں طور پر زیادہ رہتی ہے۔
نئی قیمتوں کے اثرات بجلی کی پیداواری لاگت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ستمبر میں آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت تقریباً 40 روپے فی یونٹ رپورٹ ہوئی تھی۔ اکتوبر کی زیادہ درآمدی اور ریگولیٹری قیمت دسمبر کے بجلی ایندھن اخراجات میں اثر انداز ہو سکتی ہے، تاہم صارفین کے بلوں پر حتمی اثر متعلقہ بجلی ریگولیٹری کارروائی اور منظور شدہ فیول ایڈجسٹمنٹ پر منحصر ہوگا۔
