لاہور: پاکستان کے سائبر کرائم حکام نے لاہور میں ایک کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 39 مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جہاں فوری قرض دینے والی موبائل ایپس کے صارفین کو مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ جعلی قابلِ اعتراض تصاویر سے بلیک میل کیا جاتا تھا۔ ڈان کے مطابق کارروائی سرچ وارنٹ حاصل کرنے کے بعد جی سی پی سوسائٹی میں ٹاک ماسٹر پرائیویٹ لمیٹڈ کے دفتر پر کی گئی اور گرفتار افراد میں 38 مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق چھاپے کے دوران 40 لیپ ٹاپ اور 41 موبائل فون تحویل میں لیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مرکز میں غربت فنڈ، جہیز فنڈ، کیش ایئر، کریڈٹ چیک اور کریڈٹ سپورٹ سمیت متعدد فوری قرض ایپس چلائی جا رہی تھیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق ان ایپس کو انسٹال کرنے پر صارفین کی فوٹو گیلری اور رابطوں کی فہرست تک رسائی حاصل کی جاتی تھی۔

حکام نے الزام لگایا کہ مقررہ وقت پر قرض واپس نہ کرنے والے بعض صارفین کی تصاویر کو اے آئی ٹولز سے تبدیل کر کے جعلی قابلِ اعتراض تصاویر بنائی جاتیں اور پھر متاثرہ افراد کو دھمکی دی جاتی کہ فوری ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں یہ مواد ان کے اہل خانہ اور دیگر رابطوں کو بھیج دیا جائے گا۔ یہ تمام تفصیلات اس مرحلے پر تحقیقاتی ادارے کے الزامات ہیں؛ گرفتار افراد کے خلاف جرم عدالت میں ثابت نہیں ہوا اور انہیں قانونی طور پر ملزم تصور کیا جائے گا جب تک عدالتی عمل مکمل نہ ہو۔

ضبط کیے گئے لیپ ٹاپ اور موبائل فون سیل کر دیے گئے ہیں اور حکام کے مطابق ان کا فرانزک معائنہ کیا جائے گا۔ تفتیش کار یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ مبینہ نیٹ ورک نے کتنی رقم وصول کی اور آیا اس کے روابط پاکستان سے باہر بھی موجود تھے۔ ان نکات پر ابھی تحقیقات جاری ہیں اور کسی حتمی مالی حجم یا بین الاقوامی نیٹ ورک کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

یہ کیس ڈیجیٹل قرض ایپس، صارفین کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی اور جنریٹو اے آئی کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کو نمایاں کرتا ہے۔ صارفین کے لیے ایپ کی اجازتیں، رابطوں اور تصاویر تک رسائی، اور قرض کی شرائط سمجھنا اہم ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ڈیجیٹل شواہد کی فرانزک جانچ اس مقدمے کے اگلے مرحلے میں مرکزی حیثیت رکھے گی۔