اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے انفرادی انکم ٹیکس ریٹرنز کی جانچ میں مصنوعی ذہانت اور خودکار ڈیٹا تجزیے کا استعمال بڑھانے کے لیے نئے مسودہ قواعد تجویز کیے ہیں۔ ڈان کے مطابق مجوزہ طریقہ کار میں ٹیکس حکام کے پاس موجود معلومات کو ریٹرن میں دی گئی تفصیلات کے ساتھ خودکار طور پر کراس میچ کیا جائے گا تاکہ ممکنہ حقائق، قانونی غلطیوں اور تضادات کی نشاندہی کی جا سکے۔
مسودہ قواعد کو انکم ٹیکس رولز 2002 میں ترمیم کے ذریعے “38-B Procedure for electronic scrutiny and intimation of issues detected by the automated system” کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق متعلقہ فریقوں کی آرا کے بعد قواعد کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اس مرحلے پر یہ مجوزہ نظام ہے، مکمل نافذ شدہ حتمی ضابطہ نہیں۔
نظام کی اہم خصوصیت یہ ہوگی کہ ٹیکس ریٹرن پراسیس ہونے کے بعد دستیاب سرکاری ڈیٹا اور ٹیکس دہندہ کی فراہم کردہ معلومات کا خودکار تجزیہ کیا جائے۔ اگر سسٹم کسی ممکنہ مسئلے کی نشاندہی کرے تو IRIS پورٹل کے ذریعے ٹیکس دہندہ کو آن لائن اطلاع یا پیشگی مشورہ بھیجا جائے گا۔ اس اطلاع کا مقصد یہ ہوگا کہ متعلقہ شخص قانونی یا تعزیری کارروائی شروع ہونے سے پہلے غلطی کی وضاحت، تصحیح یا ضروری اصلاح کر سکے۔
مجوزہ طریقہ کار کے تحت پہلی اطلاع میں جواب کے لیے کم از کم سات دن دیے جائیں گے۔ جواب نہ آنے کی صورت میں ایک اور یاددہانی جاری ہوگی جس میں مزید کم از کم سات دن مہیا کیے جائیں گے۔ اس کے بعد متعلقہ ان لینڈ ریونیو افسر ٹیکس دہندہ کے جواب، یا جواب نہ ملنے، کا جائزہ لے کر انکم ٹیکس قانون کے تحت مناسب اگلا قدم طے کرے گا۔
اہم بات یہ ہے کہ خودکار نظام کی جانب سے کسی تضاد کی نشاندہی بذات خود جرمانے یا نفاذی کارروائی کا فیصلہ نہیں ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق انسانی ٹیکس افسر کا کردار برقرار رہے گا اور وہ دستیاب مواد کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گا کہ آیا قانونی کارروائی کی ضرورت ہے۔ اس طرح مجوزہ نظام ٹیکس انتظامیہ میں ڈیٹا پر مبنی ابتدائی scrutiny کی ایک اضافی تہہ متعارف کراتا ہے، جبکہ حتمی قانونی اختیار متعلقہ افسر کے پاس رہے گا۔

