واشنگٹن: رائٹرز/اپسوس کے ایک نئے سروے کے مطابق امریکا میں رجسٹرڈ ووٹرز کی اکثریت سمجھتی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور کانگریس مصنوعی ذہانت سے وابستہ خطرات پر کافی توجہ نہیں دے رہیں، جبکہ مختلف سیاسی وابستگی رکھنے والے ووٹرز میں ٹیکنالوجی کے لیے مزید قواعد بنانے کی حمایت بھی سامنے آئی ہے۔ سروے ایسے وقت جاری ہوا ہے جب اے آئی کے روزگار، سائبر سکیورٹی، فوجی استعمال اور بڑے ڈیٹا سینٹرز کے سماجی و توانائی اثرات پر امریکی سیاسی بحث تیز ہو رہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق چھ روزہ سروے پیر کو ختم ہوا اور اس میں 4,506 بالغ افراد شامل تھے، جن میں 3,526 رجسٹرڈ ووٹر تھے۔ نتائج کے مطابق 57 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اے آئی کے خطرات کو کافی سنجیدگی سے نہیں لے رہی یا بالکل توجہ نہیں دے رہی، جبکہ 54 فیصد نے کانگریس کے بارے میں اسی نوعیت کی رائے ظاہر کی۔ سروے کے نتائج عوامی رائے کی پیمائش ہیں، انہیں کسی حکومتی پالیسی یا مستقبل کے انتخابی نتیجے کی پیش گوئی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
سروے میں روزگار سے متعلق تشویش نمایاں رہی۔ تقریباً 84 فیصد ووٹرز نے مصنوعی ذہانت کو امریکی کارکنوں کے لیے خطرہ قرار دیا، جبکہ 62 فیصد نے اس امکان پر تشویش ظاہر کی کہ اے آئی مستقبل میں انسانی کنٹرول سے باہر ہو کر سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ جواب دہندگان میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور فوجی اہداف کے انتخاب میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق تحفظات بھی سامنے آئے۔
صدر ٹرمپ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کو امریکا کی عالمی مسابقت، خصوصاً چین کے مقابلے میں، اہم قرار دیتے رہے ہیں۔ دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ تیز رفتار توسیع کے ساتھ ملازمتوں کی تبدیلی، غلط استعمال، توانائی کی طلب اور سکیورٹی خطرات کے لیے واضح حفاظتی ضابطوں کی ضرورت ہے۔ رائٹرز کے مطابق کانگریس میں اس موضوع پر مختلف تجاویز اور سیاسی بحث موجود ہے، تاہم جامع وفاقی اے آئی قانون سازی ابھی تک منظور نہیں ہوئی۔
نئے سروے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیکنالوجی صنعت کا معاملہ نہیں رہی بلکہ روزگار، توانائی، قومی سلامتی اور انتخابی سیاست سے جڑا عوامی پالیسی کا بڑا موضوع بن چکی ہے۔ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے امیدواروں اور قانون سازوں پر یہ دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ جدت کی رفتار برقرار رکھنے اور ممکنہ نقصانات محدود کرنے کے درمیان اپنا واضح پالیسی مؤقف پیش کریں۔

