اسلام آباد: نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر کے ہنی بی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں پاکستان کے پہلے ہائی ٹیک خودکار بی ویکس فاؤنڈیشن شیٹ مینوفیکچرنگ یونٹ کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے سہولت کا افتتاح کیا۔ وزارت قومی غذائی تحفظ، اے پی پی اور ریڈیو پاکستان کے مطابق منصوبے کا مقصد شہد کی مکھیوں کی فارمنگ کو جدید بنانا اور مقامی بی کیپرز کو معیاری فاؤنڈیشن شیٹس تک بہتر رسائی دینا ہے۔

بی ویکس فاؤنڈیشن شیٹس شہد کی مکھیوں کے چھتوں میں منظم کومب بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ نئی خودکار سہولت سے مقامی سطح پر یکساں معیار کی شیٹس تیار کرنے کی صلاحیت بڑھانے کا ہدف ہے، جس سے چھوٹے اور تجارتی بی کیپرز کو درآمد یا غیر معیاری مواد پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ وزیر نے کہا کہ شہد کی مکھیاں صرف شہد کی پیداوار ہی نہیں بلکہ فصلوں کی پولینیشن، زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

افتتاحی تقریب میں معیار، سرٹیفکیشن، ٹریس ایبلٹی، ویلیو ایڈیشن، جدید پیکیجنگ اور مارکیٹنگ کو پاکستانی شہد کی برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔ حکومت نے یورپ، جاپان اور شمالی امریکا جیسی زیادہ قدر والی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کو ترجیحی مقصد بتایا۔ وزیر کے مطابق بہتر معیار اور ویلیو ایڈیشن سے شہد کی برآمدات کے ساتھ کسانوں، بی کیپرز اور متعلقہ کاروباروں کی آمدن بڑھانے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

رانا تنویر حسین نے نوجوانوں کو شہد کی مکھی پالنے کو جدید زرعی کاروبار کے طور پر اپنانے کی ترغیب بھی دی اور کہا کہ تحقیق، تربیت، ٹیکنالوجی اور منڈیوں تک رسائی روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ تقریب میں پاکستان اور ترکیہ کے زرعی تعاون کا بھی ذکر کیا گیا اور ترک تعاون و رابطہ ایجنسی ٹیکا کی معاونت کو سراہا گیا۔

نیا یونٹ بنیادی طور پر پیداواری انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی تک رسائی کا قدم ہے۔ اس کے وسیع معاشی نتائج اس بات پر منحصر ہوں گے کہ تیار ہونے والی شیٹس کی مقدار و معیار کیا رہتا ہے، ملک بھر کے بی کیپرز تک ان کی رسائی کتنی ہوتی ہے، اور شہد کے معیار، سرٹیفکیشن اور برآمدی منڈیوں کے تقاضوں میں عملی بہتری کس حد تک آتی ہے۔