لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے لاہور کے فیصل ٹاؤن اور جوہر ٹاؤن میں دو مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز پر چھاپے مار کر درجنوں افراد کو حراست میں لینے کی اطلاع دی ہے۔ ایجنسی کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائیاں ایسے مراکز کے خلاف کی گئیں جہاں مبینہ طور پر بیرون ملک شہریوں کو جعلی یا گمراہ کن ٹیلی فون کالز کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا تھا۔
ڈان کے مطابق این سی سی آئی اے کا الزام ہے کہ زیر تفتیش مراکز میں ڈائل اپ سافٹ ویئر استعمال کیا جاتا تھا اور کال کرنے والے افراد موبائل اپ گریڈ یا ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کے نام پر بیرون ملک لوگوں سے رابطہ کرتے تھے۔ حکام نے ان سرگرمیوں کو آن لائن اور ٹیلی فون فراڈ کے ایک مبینہ طریقہ کار سے جوڑا ہے۔
چھاپوں کے دوران درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا، تاہم دستیاب رپورٹ میں ہر زیر حراست شخص کا کردار، فرداً فرداً الزامات یا کسی عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے کی تفصیل موجود نہیں۔ اس لیے تمام دعوے اس مرحلے پر تحقیقاتی ادارے کے الزامات ہیں اور حراست کو حتمی مجرمانہ ذمہ داری کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔
کال سینٹرز کے ذریعے سرحد پار فراڈ کے مقدمات میں عام طور پر ڈیجیٹل ریکارڈ، کال لاگز، استعمال ہونے والے سافٹ ویئر، مالی لین دین اور متاثرین سے رابطے کے شواہد اہم ہوتے ہیں۔ این سی سی آئی اے کی تحقیقات سے یہ واضح ہونا باقی ہے کہ زیر حراست افراد میں سے کس کا مبینہ آپریشن میں کیا کردار تھا اور آیا ضبط شدہ ڈیجیٹل مواد سے الزامات کی تائید ہوتی ہے۔
پاکستان میں سائبر کرائم کے خلاف کارروائیوں میں حالیہ عرصے کے دوران آن لائن مالی فراڈ، جعلی شناخت، غیر مجاز ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور بیرون ملک شہریوں کو نشانہ بنانے والے نیٹ ورکس پر توجہ بڑھی ہے۔ لاہور کی تازہ کارروائی بھی اسی تناظر میں سامنے آئی ہے، مگر کسی بھی ملزم کے خلاف حتمی قانونی نتیجہ تفتیش، ممکنہ فرد جرم اور عدالتی عمل کے بعد ہی طے ہوگا۔
این سی سی آئی اے نے شہریوں کو مشکوک آن لائن اور ٹیلی فون سرگرمیوں سے محتاط رہنے کی ہدایات بھی مختلف مواقع پر جاری کی ہیں۔ موجودہ کیس میں مزید تفصیلات، ممکنہ مالی حجم اور متاثرین کی تعداد تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ سامنے آنے کی توقع ہے؛ فی الحال دستیاب معلومات چھاپوں اور ابتدائی الزامات تک محدود ہیں۔

