قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال (این سی آر سی) نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ بچوں کو آن لائن گرومنگ، استحصال اور نقصان دہ مواد سے تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے محض پالیسی بیانات کے بجائے مؤثر قانونی، ریگولیٹری اور ادارہ جاتی اقدامات ضروری ہیں۔
کمیشن نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق مقدمے میں 17 صفحات پر مشتمل جواب جمع کرایا۔ این سی آر سی نے درخواست میں اٹھائے گئے خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے عمر کی مؤثر تصدیق اور بچوں کے لیے جامع آن لائن حفاظتی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیشن کے مطابق بچوں کی ڈیجیٹل شرکت کے حق اور ان کے تحفظ کے درمیان متوازن نظام بنانا ضروری ہے۔
این سی آر سی نے سفارش کی کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کے ریگولیٹری فریم ورک میں بچوں کی آن لائن حفاظت کو واضح طور پر شامل کیا جائے، بالخصوص عمر کی تصدیق اور مؤثر حفاظتی نظام پر توجہ دی جائے۔ مقصد یہ ہے کہ کم عمر صارفین کے لیے ایسے عملی طریقے موجود ہوں جن سے پلیٹ فارم ان کی عمر کے مطابق رسائی، رابطوں اور مواد کے خطرات کو بہتر انداز میں منظم کر سکیں۔
ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں کے جنسی استحصال سے نمٹنے کے لیے کمیشن نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی صلاحیت بڑھانے اور آن لائن بچوں کے جنسی استحصال کی تحقیقات کے لیے خصوصی نظام یا یونٹس قائم کرنے کی سفارش کی۔ کمیشن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچوں سے متعلق غیر قانونی جنسی مواد کے خلاف فوری کارروائی اور ایسے مواد کو تیزی سے ہٹانے کے قابل طریقہ کار موجود ہونا چاہیے۔
کمیشن نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ، یعنی پیکا، کا بچوں کے حقوق کے تناظر میں جائزہ لینے اور ضروری ترامیم کرنے کی تجویز دی۔ اس کے مطابق موجودہ قانونی ڈھانچے میں آن لائن بچوں کے تحفظ سے متعلق خلا کو دور کرنے، تفتیشی صلاحیت بہتر بنانے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ذمہ داری واضح کرنے کی ضرورت ہے۔
این سی آر سی نے یہ بھی کہا کہ بچوں اور نامعلوم بالغ افراد کے درمیان غیر ضروری آن لائن رابطے محدود کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات ہونے چاہییں۔ اس مقصد کے لیے قانون سازی، پلیٹ فارم جواب دہی اور مؤثر نفاذ کو ایک ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ کمیشن کے مطابق صرف عمر کی حد مقرر کرنا کافی نہیں ہوگا اگر اس کے ساتھ تصدیق، شکایات، مواد ہٹانے اور تحقیقات کے قابل عمل نظام نہ ہوں۔
یہ تجاویز اس وقت عدالت کے سامنے کمیشن کی سفارشات ہیں، حتمی عدالتی حکم یا نافذ شدہ قانون نہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ مقدمے میں متعلقہ فریقوں کے مؤقف اور قانونی نکات کا جائزہ لے رہی ہے۔ آئندہ مرحلے میں عدالت یا حکومت کی جانب سے ان سفارشات پر کیا عملی قدم اٹھایا جاتا ہے، اس سے پاکستان میں بچوں کی آن لائن حفاظت کے مستقبل کے ریگولیٹری ڈھانچے کی سمت واضح ہوگی۔
