اسلام آباد: قومی کمیشن برائے حقوقِ طفل (این سی آر سی) نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے مؤقف اختیار کیا ہے کہ نابالغوں کو آن لائن گرومنگ، جنسی استحصال اور نقصان دہ ڈیجیٹل مواد سے محفوظ رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کمیشن نے عدالت میں پیش کردہ تجاویز میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بڑھانے، بچوں سے متعلق آن لائن جرائم کی تحقیقات کے لیے خصوصی انتظامات اور موجودہ سائبر قوانین کا بچوں کے حقوق کے تناظر میں جائزہ لینے کی سفارش کی ہے۔
این سی آر سی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی استعداد بڑھانے اور بچوں کے آن لائن استحصال سے متعلق مقدمات کے لیے خصوصی یونٹس قائم کرنے کی تجویز دی۔ کمیشن کا مؤقف ہے کہ ایسے جرائم کی نوعیت عام سائبر شکایات سے مختلف ہوتی ہے اور ان کی تفتیش میں بچوں کے تحفظ، ڈیجیٹل شواہد اور متاثرہ افراد سے حساس انداز میں رابطے کی مخصوص مہارت درکار ہوتی ہے۔
کمیشن نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کا بچوں کے حقوق کے نقطہ نظر سے جائزہ لینے کی بھی سفارش کی۔ اس کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ موجودہ قانونی دفعات آن لائن گرومنگ، استحصال اور بچوں کو نقصان دہ مواد سے بچانے کے لیے کس حد تک مؤثر ہیں اور کن مقامات پر قانون یا اس کے نفاذ کے طریقہ کار میں مزید وضاحت یا اصلاح درکار ہو سکتی ہے۔
این سی آر سی نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کے تحت عمر کی تصدیق کے نظام کو شامل کرنے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ کم عمر صارفین کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مناسب حفاظتی رکاوٹیں قائم کی جا سکیں۔ عمر کی تصدیق سے متعلق کسی بھی نظام میں بچوں کی پرائیویسی اور ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے سوالات بھی اہم ہوں گے، اس لیے عملی فریم ورک کو متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہوگا۔
کمیشن کی تجاویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب بچوں اور نوجوانوں کی سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز تک رسائی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ڈیجیٹل سہولت کے ساتھ گرومنگ، بلیک میلنگ، استحصالی مواد اور نامناسب مواد تک رسائی جیسے خطرات بھی پالیسی سازوں اور عدالتوں کے سامنے اہم مسئلہ بن چکے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پیش کیا گیا مؤقف سفارشات اور قانونی بحث کا حصہ ہے؛ یہ تمام تجاویز بذاتِ خود نافذ شدہ قانون یا حتمی عدالتی حکم نہیں ہیں۔ ان پر کسی عملی تبدیلی کے لیے متعلقہ عدالت، حکومت، پارلیمان یا ریگولیٹری اداروں کی جانب سے قانونی و انتظامی اقدامات درکار ہوں گے۔
