خیبر پختونخوا حکومت نے زمین کے ریکارڈ اور متعلقہ شہری خدمات کی ڈیجیٹل فراہمی کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے ای فرد پورٹل اور ڈیجیٹل پبلک فیڈبیک سسٹم کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پشاور میں ان نظاموں کا افتتاح کیا اور کہا کہ اصلاحات کا مقصد زمین سے متعلق خدمات کو شہریوں کے لیے زیادہ قابل رسائی، شفاف، مؤثر اور جواب دہ بنانا ہے۔

ای فرد پورٹل کے ذریعے روایتی کاغذی اور دفتری مراحل پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ زمین کے ریکارڈ سے متعلق فرد کے حصول جیسے کاموں میں شہریوں کو اکثر سرکاری دفاتر کے متعدد چکر لگانے پڑتے ہیں۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نظام سے خدمات کی فراہمی میں وقت کم ہوگا اور درخواستوں کے عمل کو زیادہ قابلِ نگرانی بنایا جا سکے گا۔

اس کے ساتھ شروع کیا گیا ڈیجیٹل پبلک فیڈبیک سسٹم شہریوں کو سرکاری خدمات کے بارے میں اپنی رائے اور شکایات درج کرنے کا ایک منظم ذریعہ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق فیڈبیک کو انتظامی کارکردگی کی نگرانی اور مسائل کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ نظام کی اصل کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ شہری شکایات پر کتنی تیزی اور مؤثر انداز میں کارروائی ہوتی ہے۔

زمین کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن پاکستان کے مختلف صوبوں میں طویل عرصے سے جاری اصلاحاتی عمل کا حصہ ہے۔ ایسے نظام جعل سازی، غیر ضروری تاخیر اور غیر رسمی دفتری رکاوٹوں کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ان کے لیے درست ڈیٹا، سائبر سکیورٹی، مسلسل تکنیکی معاونت اور ایسے شہریوں کے لیے متبادل سہولت بھی ضروری ہے جو ڈیجیٹل ذرائع استعمال نہیں کر سکتے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے نئی خدمات کو شہری مرکزیت پر مبنی انتظامی اصلاحات کے طور پر پیش کیا ہے۔ ابتدائی مرحلے کے بعد پورٹل کی افادیت کا حقیقی پیمانہ استعمال کرنے والوں کی تعداد، درخواستوں کے نمٹانے کا وقت، ریکارڈ کی درستگی اور شہری فیڈبیک پر عمل درآمد ہوگا۔