کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ریگولیٹری سینڈ باکس کے دوسرے کوہورٹ کے آغاز کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت مالیاتی ٹیکنالوجی سے متعلق نئی مصنوعات اور خدمات کو محدود اور نگرانی والے ماحول میں آزمانے کا موقع دیا جائے گا۔ مرکزی بینک کے مطابق اس اقدام سے درخواست گزار اپنے اختراعی حل کی جانچ کر سکیں گے، جبکہ ریگولیٹر کو ابھرتی ٹیکنالوجیز کے مطابق قواعد اور نگرانی کے طریقہ کار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

اسٹیٹ بینک نے ریگولیٹری سینڈ باکس کا آغاز اگست 2025 میں اپنی ویژن 2028 حکمت عملی کے تحت کیا تھا اور پہلے کوہورٹ کا عمل جون 2026 میں مکمل ہوا۔ دوسرے مرحلے کے ذریعے مرکزی بینک ذمہ دارانہ جدت کو فروغ دینے کے ساتھ صارفین کے تحفظ اور مالیاتی استحکام کے تقاضوں کو برقرار رکھنے کا ہدف رکھتا ہے۔

اعلان کے مطابق دوسرے کوہورٹ میں چار بڑے موضوعات پر درخواستوں پر غور کیا جائے گا۔ ان میں مالیاتی خدمات میں مصنوعی ذہانت کا استعمال، ادائیگیوں میں نئی اختراعات، ٹیکنالوجی کی مدد سے پاکستان آنے والی ترسیلات زر کے حل اور ’اوپن تھیم — نیکسٹ جن فنانشل سروسز‘ شامل ہیں۔ اوپن تھیم کا مقصد ایسے نئے مالیاتی تصورات کے لیے گنجائش رکھنا ہے جو پہلے سے مقرر موضوعات میں مکمل طور پر شامل نہ ہوں۔

درخواستیں 30 نومبر تک جمع کرائی جا سکیں گی۔ سینڈ باکس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کسی نئی ٹیکنالوجی یا کاروباری ماڈل کو مکمل پیمانے پر مارکیٹ میں متعارف کرانے سے پہلے محدود دائرے میں اس کے عملی، قانونی اور صارف تحفظ سے متعلق پہلوؤں کو جانچا جائے۔ اس عمل سے ریگولیٹر کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ موجودہ قواعد نئی ٹیکنالوجی پر کس طرح لاگو ہوتے ہیں اور کہاں وضاحت یا تبدیلی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں، فِن ٹیک اور ترسیلات زر کے شعبوں میں تیزی سے نئی ٹیکنالوجیز سامنے آ رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کریڈٹ، فراڈ کی نشاندہی، کسٹمر سروس اور دیگر مالیاتی سرگرمیوں میں نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں، لیکن ان کے ساتھ ڈیٹا، شفافیت اور صارف تحفظ کے سوالات بھی جڑے ہیں۔ ریگولیٹری سینڈ باکس ایسے حل کو براہ راست مستقل منظوری دینے کے بجائے نگرانی میں آزمانے کا ایک طریقہ فراہم کرتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق دوسرے کوہورٹ کا مقصد ڈیجیٹل مالیاتی ماحولیاتی نظام میں ذمہ دارانہ اختراع کو آگے بڑھانا ہے۔ منتخب درخواستوں اور آزمائشی مراحل کی حتمی نوعیت متعلقہ ضابطہ کار اور مرکزی بینک کی جانچ کے مطابق طے ہوگی۔