راولپنڈی: پاکستان پوسٹ نے ملک بھر کے ڈاک خانوں کو جدید بنانے اور 2,761 دفاتر میں آٹومیشن متعارف کرانے کے منصوبے پر پیش رفت کی ہے۔ ڈان کی 4 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (CDWP) نے منصوبے کے نظرثانی شدہ پی سی ون کی منظوری دے دی ہے، جسے ادارے کی ڈیجیٹل تبدیلی اور طویل مدتی پائیداری کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے کی مجموعی لاگت 6.29 ارب روپے سے زائد بتائی گئی ہے اور اسے مالی معاونت کے ساتھ دسمبر 2029 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں واقع 2,761 ڈاک خانوں میں کمپیوٹرائزڈ اور خودکار نظام متعارف کرائے جائیں گے تاکہ روایتی کاغذی عمل کو کم کیا جا سکے، خدمات کی رفتار بہتر ہو اور صارفین کو مختلف ڈاک و مالیاتی سہولتیں زیادہ مؤثر انداز میں فراہم کی جا سکیں۔
پاکستان پوسٹ کی جدید کاری میں صرف دفتری آٹومیشن شامل نہیں بلکہ ترسیلی نظام کو بھی بہتر بنانے کی تجویز ہے۔ رپورٹ کے مطابق پوسٹ مین کو الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کا منصوبہ بھی اسی اصلاحاتی پیکج کا حصہ ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہری اور نیم شہری علاقوں میں خطوط، پارسل اور دیگر ڈاک کی تقسیم کو تیز کرنا اور ایندھن کے اخراجات میں ممکنہ کمی لانا ہے۔
منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان پوسٹ کو نجی کورئیر کمپنیوں، ڈیجیٹل مواصلات اور تیزی سے بڑھتی ای کامرس مارکیٹ سے سخت مسابقت کا سامنا ہے۔ ادارے کے لیے جدید ٹریکنگ، بہتر ڈیٹا مینجمنٹ، خودکار بکنگ اور مؤثر ترسیل کے نظام صارفین کا اعتماد بحال کرنے اور آمدن کے نئے ذرائع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ڈان کے مطابق منصوبہ پاکستان پوسٹ کے سابق ڈائریکٹر جنرل مقصود احمد کے دور میں تیار اور پیش کیا گیا تھا۔ حکام اسے ادارے کی مالی اور آپریشنل حالت بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم سمجھتے ہیں، تاہم اس کے عملی نتائج کا انحصار بروقت خریداری، آلات کی تنصیب، عملے کی تربیت، ڈیجیٹل نظام کے باہمی انضمام اور منصوبہ بندی کے مطابق تکمیل پر ہو گا۔
نظرثانی شدہ پی سی ون کی منظوری منصوبے کے نفاذ کی جانب ایک انتظامی پیش رفت ہے، لیکن مختلف دفاتر میں آٹومیشن کی حقیقی تکمیل مرحلہ وار ہوگی۔ اس لیے خدمات میں فوری یکساں تبدیلی کے بجائے آئندہ برسوں میں بتدریج اثرات سامنے آنے کی توقع ہے۔
