لاہور: ٹریفک پولیس نے اسکول جانے والے بچوں کی حفاظت کے لیے وینوں، رکشوں اور بسوں میں اوورلوڈنگ اور ایل پی جی سلنڈروں کے استعمال کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈان کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق چیف ٹریفک آفیسر لاہور سید عبد الرحیم شیرازی نے ہدایت دی کہ بچوں کو لے جانے والی کسی گاڑی، وین یا رکشے میں ایل پی جی سلنڈر کی اجازت نہیں ہوگی۔
ٹریفک پولیس کے مطابق رکشہ ڈرائیور کسی بچے کو اگلی نشست پر نہیں بٹھا سکے گا۔ اسی طرح رکشوں کے اطراف اسکول بیگ یا دوسرا سامان لٹکانے پر بھی پابندی نافذ کی جائے گی، کیونکہ ایسا سامان سڑک پر موجود دوسری گاڑیوں یا موٹر سائیکل سواروں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اوورلوڈنگ سے گاڑی کا توازن، بریک کا فاصلہ اور ہنگامی حالت میں بچوں کے نکلنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، اس لیے کارروائی کا بنیادی مقصد سفری گنجائش اور حفاظتی اصولوں کی پابندی کرانا بتایا گیا ہے۔
ایل پی جی سلنڈر کا غیر معیاری یا غیر محفوظ استعمال اسکول ٹرانسپورٹ میں خاص تشویش کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ لیکیج، غلط فٹنگ، نامناسب وینٹی لیشن یا حادثے کی صورت میں آگ لگنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ موجودہ حکم میں ہر گاڑی کے تکنیکی معائنے، جرمانوں کی مکمل فہرست یا کارروائی کی مدت کی تفصیل نہیں دی گئی، مگر پولیس نے واضح کیا ہے کہ بچوں کو لے جانے والی ٹرانسپورٹ میں سلنڈر برداشت نہیں کیا جائے گا۔
والدین اور اسکول انتظامیہ کے لیے بھی گاڑی کے انتخاب، ڈرائیور کے لائسنس، روٹ پرمٹ، فٹنس سرٹیفکیٹ، نشستوں کی دستیابی، ایمرجنسی راستے اور رفتار کی نگرانی اہم ہے۔ صرف سڑک پر چالان سے مستقل بہتری اس وقت تک مشکل رہتی ہے جب تک اسکول باقاعدہ ٹرانسپورٹ ریکارڈ نہ رکھیں اور والدین غیر محفوظ گاڑی کی فوری اطلاع نہ دیں۔ رپورٹ میں کسی مخصوص اسکول یا ڈرائیور پر الزام عائد نہیں کیا گیا۔
اسی رپورٹ میں ملتان ٹریفک پولیس کی ہیلمٹ آگاہی ریلی کا بھی ذکر ہے، جس میں خواتین موٹر سائیکل سواروں کو ہیلمٹ تقسیم کیے گئے۔ وہ سرگرمی لاہور کے اسکول وین کریک ڈاؤن سے الگ اقدام ہے۔ اردو ہیڈلائنز موجودہ خبر کو اعلان کردہ حفاظتی کارروائی تک محدود رکھتا ہے؛ خلاف ورزیوں، چالانوں یا ضبط کی حتمی تعداد متعلقہ پولیس کے بعد کے سرکاری اعداد و شمار آنے پر ہی بیان کی جا سکے گی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




