لاہور: پنجاب کا دارالحکومت اکتوبر کے آخری ہفتے میں ایک بار پھر شدید سموگ اور فضائی آلودگی کی لپیٹ میں آگیا، جس سے شہریوں کی روزمرہ زندگی اور صحت سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ فضائی معیار کی عالمی درجہ بندیوں میں لاہور بڑے شہروں کے درمیان آلودگی کی بلند ترین سطحوں میں شامل رہا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں باریک ذرات پی ایم 2.5 کی مقدار صحت کے لیے محفوظ سمجھی جانے والی سطح سے کئی گنا زیادہ ریکارڈ ہوئی۔ سموگ کی تہہ کے باعث حدِ نگاہ متاثر ہوئی اور صبح و شام کے اوقات میں فضا زیادہ دھندلی دکھائی دی۔ فضائی آلودگی کے اعداد مختلف مانیٹرنگ اسٹیشنوں اور وقت کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں، اس لیے کسی ایک لمحے کی ریڈنگ کو پورے دن یا پورے شہر کی مستقل سطح نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
پنجاب کے ماحولیاتی حکام نے کہا ہے کہ لاہور اور صوبے کے دیگر حصوں میں آلودگی کے کئی مقامی ذرائع موجود ہیں، جن میں ٹریفک، صنعتی اخراج، تعمیراتی گرد، اینٹوں کے بھٹے اور زرعی باقیات جلانے کے واقعات شامل ہو سکتے ہیں۔ حکام نے موسمی حالات اور مشرقی سمت سے آنے والی ہواؤں کے ذریعے سرحد پار آلودگی کی منتقلی کو بھی بعض دنوں میں ایک عامل قرار دیا ہے۔ سرحد پار حصے سے متعلق تناسب وقت، ہوا کی سمت اور ماڈلنگ کے طریقے کے مطابق بدل سکتا ہے، اس لیے اسے ایک مستقل شرح کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔
سموگ کے موسم میں پی ایم 2.5 جیسے انتہائی باریک ذرات خاص تشویش کا باعث ہوتے ہیں کیونکہ یہ پھیپھڑوں میں گہرائی تک جا سکتے ہیں۔ صحت کے ماہرین عمومی طور پر بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور دمہ یا دل و پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا افراد کو زیادہ احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں۔ شدید آلودگی کے اوقات میں غیر ضروری بیرونی سرگرمی محدود کرنا اور سرکاری صحت ہدایات پر عمل کرنا اہم سمجھا جاتا ہے۔
پنجاب حکومت نے انسداد سموگ اقدامات کے تحت اخراج کی نگرانی، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں اور صنعتی یونٹس کے خلاف کارروائی اور فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام جیسے اقدامات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کی مؤثریت کا اندازہ طویل مدت کے فضائی معیار، نفاذ کے تسلسل اور مختلف اخراجی ذرائع میں حقیقی کمی سے کیا جائے گا۔
لاہور میں ہر سال سردیوں کے آغاز کے ساتھ سموگ ایک بڑا ماحولیاتی اور صحت عامہ کا مسئلہ بن جاتی ہے۔ موجودہ صورت حال اس امر کو نمایاں کرتی ہے کہ فضائی آلودگی صرف ہنگامی پابندیوں کا نہیں بلکہ ٹرانسپورٹ، صنعت، توانائی، شہری منصوبہ بندی اور زرعی طریقوں سے جڑے مسلسل پالیسی اقدامات کا مسئلہ بھی ہے۔
