فیصل آباد: یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد نے پنجاب کے محکمہ زراعت توسیع کے تعاون سے گندم کی بروقت کاشت اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ کے لیے تقریباً 30 ہزار طلبہ کو فیلڈ مہم میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق دس روزہ مہم 30 اکتوبر سے 8 نومبر تک جاری رہے گی۔

مہم فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات، لاہور، ساہیوال اور سرگودھا ڈویژنز میں چلائی جائے گی۔ طلبہ کسانوں کے کھیتوں تک جائیں گے اور انہیں بروقت بوائی، بہتر بیج کے انتخاب، آبپاشی، کھاد کے مؤثر استعمال، کیڑوں کے انتظام اور موسمیاتی حالات سے ہم آہنگ زرعی طریقوں کے بارے میں معلومات دیں گے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی کے مطابق گندم کی پیداوار میں اضافہ قومی غذائی تحفظ اور بڑھتی ہوئی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں سے براہ راست رابطہ زرعی تحقیق اور عملی کاشتکاری کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے اور سائنسی معلومات کو مقامی سطح تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے کہا کہ اس سرگرمی سے طلبہ کو بھی کھیت کی سطح پر درپیش حقیقی مسائل سمجھنے کا موقع ملے گا۔ یوں مہم کا مقصد صرف کسانوں کو مشورہ دینا نہیں بلکہ زرعی تعلیم کو عملی تجربے سے جوڑنا بھی ہے۔

پاکستان میں گندم بنیادی غذائی فصل ہے اور اس کی پیداوار میں معمولی کمی بھی ملکی رسد، قیمتوں اور درآمدی ضروریات پر اثر ڈال سکتی ہے۔ موسمی تغیر، پانی کی دستیابی، کاشت کے وقت اور پیداواری لاگت جیسے عوامل کسانوں کے فیصلوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اسی پس منظر میں یونیورسٹی اور محکمہ زراعت کی مشترکہ مہم بروقت بوائی اور بہتر انتظامی طریقوں کے ذریعے فی ایکڑ پیداوار بہتر بنانے پر توجہ دے گی۔ مہم کے نتائج کا اصل اندازہ فصل کے آئندہ مراحل اور پیداوار کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد ہوگا۔