اسلام آباد: پاکستان نے موسمیاتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات کے مقابلے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کو ابتدائی انتباہی نظام میں زیادہ مؤثر انداز سے شامل کرنے کی سمت کام تیز کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اسلام آباد میں خلائی ٹیکنالوجی، موسمیاتی کارروائی اور ڈیزاسٹر رسک اسیسمنٹ سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں اس حکمت عملی کی اہمیت پر زور دیا۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق کانفرنس سپارکو نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے بیرونی خلائی امور اور دیگر علاقائی و بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے منعقد کی۔ وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے محض ماحولیاتی نہیں بلکہ معاشی اور ترقیاتی چیلنج بھی ہے۔ انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلابوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان سے ہونے والے براہ راست نقصانات ملکی مجموعی پیداوار کے تقریباً 2.2 فیصد کے برابر تھے، جو اس بات کی مثال ہے کہ قدرتی آفات قومی معیشت پر کس قدر بڑا دباؤ ڈال سکتی ہیں۔

حکومت کا مجوزہ رخ یہ ہے کہ سیٹلائٹ مانیٹرنگ کے ذریعے موسم، پانی، زمین اور خطرے سے دوچار علاقوں کے بارے میں زیادہ بروقت معلومات حاصل کی جائیں اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ان ڈیٹا سیٹس کا تجزیہ کر کے سیلاب، شدید بارش، گرمی کی لہروں اور دیگر موسمی خطرات کے لیے بہتر پیش گوئی اور وارننگ ممکن بنائی جائے۔ ایسے نظام کا مقصد صرف خطرے کی نشاندہی نہیں بلکہ صوبائی و ضلعی اداروں کو پیشگی تیاری، انخلا، وسائل کی تقسیم اور ہنگامی ردعمل کے فیصلوں کے لیے قابلِ عمل معلومات فراہم کرنا ہے۔

پاکستان حالیہ برسوں میں سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی، گلیشیئر سے جڑی آفات اور شہری علاقوں میں شدید بارشوں کے اثرات کا سامنا کرتا رہا ہے۔ ماہرین طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ آفات کے بعد امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ خطرات کی پیشگی شناخت اور مقامی سطح پر وارننگ پہنچانے کی صلاحیت میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ خلائی اور اے آئی ٹیکنالوجی اس نظام کو بہتر بنا سکتی ہے، تاہم اس کی افادیت کا انحصار درست ڈیٹا، اداروں کے درمیان رابطے، زمینی نگرانی اور بروقت عوامی ابلاغ پر بھی ہوگا۔

کانفرنس میں پیش کیا گیا حکومتی موقف ایک پالیسی سمت کی نشاندہی کرتا ہے؛ عملی نتائج کا تعین اس بات سے ہوگا کہ متعلقہ ادارے ٹیکنالوجی کو قومی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے موجودہ ڈھانچے میں کس حد تک مربوط کرتے ہیں اور وارننگ کو متاثرہ آبادی تک بروقت پہنچانے کے لیے کون سے قابلِ پیمائش اقدامات اختیار کیے جاتے ہیں۔