لاہور: سموگ کی شدت میں اضافے کے بعد لاہور 28 اکتوبر کو دنیا کے آلودہ ترین بڑے شہروں کی عالمی درجہ بندی میں سرفہرست آ گیا، جبکہ پنجاب ماحولیاتی تحفظ ایجنسی نے کہا ہے کہ مشرقی سمت سے آنے والی ہوائیں سرحد پار آلودہ ہوا کو وسطی پنجاب کی طرف منتقل کر رہی ہیں۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق صوبائی ای پی اے کے ترجمان نے موجودہ سموگ کی صورتحال میں علاقائی فضائی نقل و حرکت کو ایک اہم عامل قرار دیا۔ تاہم لاہور کی فضائی آلودگی متعدد مقامی اور علاقائی ذرائع کے مجموعے سے بنتی ہے۔ ٹرانسپورٹ کا دھواں، صنعت، تعمیراتی گرد، کچرا یا فصلوں کی باقیات جلانا اور موسم کی ایسی کیفیت جس میں آلودہ ذرات فضا کی نچلی تہہ میں پھنس جائیں، سب ہوا کے معیار کو متاثر کر سکتے ہیں۔

شہر کی عالمی درجہ بندی کسی مخصوص وقت کے فضائی معیار کے ڈیٹا کی عکاسی کرتی ہے اور دن کے دوران ہوا، درجہ حرارت اور اخراج میں تبدیلی کے ساتھ مقام بدل سکتا ہے۔ اس لیے لاہور کا پہلے نمبر پر آنا ایک سنگین مگر وقتی درجہ بندی ہے، جبکہ اصل مسئلہ مسلسل بلند باریک ذرات اور کئی ہفتوں تک جاری رہنے والا سموگ سیزن ہے۔

باریک ذرات خصوصاً پی ایم 2.5 انسانی پھیپھڑوں میں گہرائی تک داخل ہو سکتے ہیں اور شدید آلودگی کے دوران سانس، آنکھوں اور دل سے متعلق مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور پہلے سے سانس یا قلبی بیماری رکھنے والے افراد کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکام ایسے حالات میں غیر ضروری بیرونی سرگرمی کم کرنے اور سرکاری فضائی معیار کی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

سرحد پار آلودگی کا معاملہ جنوبی ایشیا میں مشترکہ ماحولیاتی چیلنج ہے، لیکن مقامی اخراج میں کمی بھی لاہور اور پنجاب کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ گاڑیوں کے اخراج، صنعتی ایندھن، تعمیراتی گرد اور زرعی جلاؤ کی نگرانی کے بغیر صرف موسمی یا بیرونی عوامل پر انحصار مستقل حل فراہم نہیں کر سکتا۔ موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر علاقائی ڈیٹا شیئرنگ اور مقامی اخراج کنٹرول دونوں کی اہمیت نمایاں کر دی ہے۔