اسلام آباد: پاکستان نے قدرتی اور موسمی آفات کی پیشگی اطلاع کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ پر مبنی نگرانی اور مصنوعی ذہانت کے زیادہ استعمال کی سمت کام تیز کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو ارلی وارننگ، خطرات کی نقشہ بندی اور بروقت حکومتی ردعمل کے ساتھ جوڑنا موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے مقابلے کے لیے ضروری ہے۔

بزنس ریکارڈر کی 28 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق حکومتی توجہ سیٹلائٹ ڈیٹا سے بارش، سیلاب، زمینی حالات اور دوسرے خطرات کی نگرانی بہتر بنانے پر ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بڑی مقدار میں موسمی اور جغرافیائی ڈیٹا کا تیز تجزیہ ممکن ہو سکتا ہے، جس سے خطرے کی پیش گوئی اور متاثرہ علاقوں کی ترجیحی نشاندہی میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان نے حالیہ برسوں میں تباہ کن سیلاب، شدید بارشوں، گرمی کی لہروں اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے جیسے واقعات کا سامنا کیا ہے۔ ان آفات نے واضح کیا ہے کہ صرف موسم کی پیش گوئی کافی نہیں؛ معلومات کو ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور خطرے سے دوچار آبادی تک بروقت پہنچانے کے لیے مربوط نظام بھی ضروری ہے۔

خلائی ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ زمین پر موجود سینسرز اور موسمی اسٹیشنوں کا متبادل نہیں بلکہ ان کی تکمیل کر سکتی ہے۔ مؤثر نظام کے لیے پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، صوبائی اداروں، سپارکو اور مقامی انتظامیہ کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ اور واضح ذمہ داریوں کی ضرورت ہوگی۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلز کے استعمال میں ڈیٹا کے معیار، مقامی جغرافیہ اور غلط پیش گوئی کے خطرات بھی اہم ہیں۔ اسی لیے جدید نظام کے ساتھ انسانی ماہرین کی جانچ، زمینی تصدیق اور عوامی رابطے کا قابل اعتماد طریقہ برقرار رکھنا ہوگا۔ حکومت کی تازہ سمت ٹیکنالوجی کے استعمال کا پالیسی ارادہ ظاہر کرتی ہے؛ رپورٹ میں کسی ایک مکمل قومی اے آئی ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے فوری آغاز یا مخصوص تکمیل کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اگر منصوبہ مربوط انداز میں آگے بڑھتا ہے تو سیٹلائٹ اور اے آئی سے حاصل ہونے والی معلومات سیلابی راستوں، فصلوں، شہری آبادی اور اہم بنیادی ڈھانچے کے خطرات کی پہلے شناخت میں مدد دے سکتی ہیں۔ اصل کامیابی کا معیار یہ ہوگا کہ تکنیکی پیش گوئی کتنی تیزی سے قابل عمل وارننگ میں تبدیل ہو کر لوگوں اور اداروں تک پہنچتی ہے۔