اسلام آباد: وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں شروع کیا گیا گرین اسکلز ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو ماحول دوست مہارتوں کے فروغ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کا مقابلہ کرنے میں مدد دے گا۔ انہوں نے اسلام آباد میں اس اقدام سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق پر مبنی اختراعات اپنانے پر زور دیا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک شدید خطرہ بن چکی ہے اور مختلف شعبوں میں ایسی مہارتوں کی ضرورت ہے جو کم کاربن، وسائل کے مؤثر استعمال اور ماحول دوست معاشی سرگرمیوں کی طرف منتقلی میں معاون ہوں۔ انہوں نے تعمیرات، کاروبار، توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت متعدد شعبوں میں جدت کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔
مصدق ملک نے گزشتہ ایک دہائی کے موسمیاتی نقصانات کے حوالے سے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً چھ ہزار افراد جان سے گئے، بیس ہزار زخمی ہوئے اور چار کروڑ افراد نقل مکانی یا بے دخلی سے متاثر ہوئے۔ یہ اعداد وزیر کے سرکاری خطاب میں بیان کیے گئے؛ مختلف موسمیاتی واقعات کے مجموعی اثرات کی پیمائش اداروں اور طریقہ کار کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔
گرین اسکلز کا تصور صرف روایتی ماحولیاتی ملازمتوں تک محدود نہیں بلکہ ایسے تکنیکی اور پیشہ ورانہ ہنر بھی شامل کرتا ہے جو توانائی کی بچت، قابل تجدید توانائی، پائیدار تعمیرات، فضلہ مینجمنٹ، صاف ٹرانسپورٹ اور موسمیاتی موافقت میں استعمال ہو سکیں۔ پاکستان میں نوجوان آبادی اور روزگار کی ضرورت کے پیش نظر ایسی تربیت کو معاشی پالیسی سے جوڑنا اہم سمجھا جاتا ہے۔
وزیر نے زور دیا کہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے تحقیق اور مقامی اختراع کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اس اقدام کی کامیابی کا انحصار تربیتی پروگراموں کے معیار، صنعت کے ساتھ روابط، فنڈنگ اور اس بات پر ہوگا کہ حاصل کی گئی مہارتیں حقیقی روزگار یا کاروباری مواقع میں کس حد تک تبدیل ہوتی ہیں۔ سرکاری بیان میں پروگرام کے مجموعی بجٹ، تربیت پانے والے افراد کی حتمی تعداد یا مرحلہ وار اہداف کی مکمل تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے ان نتائج کا جائزہ آئندہ نفاذی اعدادوشمار کی بنیاد پر کیا جا سکے گا۔
