گوادر: بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے قریب سمندر میں 500 سے زائد ڈولفنز کا ایک غیر معمولی بڑا جھنڈ دیکھا گیا ہے، جسے سمندری ماہرین نے علاقے میں حیاتیاتی تنوع، خوراک کی دستیابی اور ساحلی ماحولیاتی نظام کی صحت کے حوالے سے حوصلہ افزا مشاہدہ قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ان ڈولفنز کی سائنسی شناخت ٹرسی اوپس ایڈنکس کے طور پر کی گئی ہے، جنہیں عام طور پر انڈو پیسیفک بوٹل نوز ڈولفن کہا جاتا ہے۔ یہ بڑا جھنڈ ایک ماہی گیر کشتی کے قریب دیکھا گیا، جہاں ڈولفنز پانی کی سطح پر بار بار نمودار ہو رہی تھیں۔ کشتی کے کپتان امیر داد خان نے اس منظر کا مشاہدہ کیا اور معلومات سمندری ماہرین تک پہنچیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں ڈولفنز کا نسبتاً کم گہرے ساحلی پانی میں ایک ساتھ نظر آنا مضبوط خوراکی سلسلے اور سمندری حیات کی موجودگی کی علامت ہو سکتا ہے۔ تاہم ایک مشاہدے کو پورے ماحولیاتی نظام کی مکمل صحت کا قطعی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا، اس لیے طویل مدتی نگرانی اور سائنسی ڈیٹا ضروری رہتا ہے۔

پاکستان کے ساحلی پانیوں، خصوصاً بلوچستان کے ساحل، میں ڈولفن، وہیل اور پورپوائز سمیت سیٹیشینز کی تقریباً 26 اقسام ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ گوادر اور ملحقہ سمندری علاقے ماہی گیری، تجارتی جہاز رانی اور ساحلی ترقی کے باعث معاشی اہمیت بھی رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے سمندری حیات کے تحفظ اور انسانی سرگرمیوں کے درمیان توازن اہم ہو جاتا ہے۔

ماہرین ماحولیات نے مقامی ماہی گیر برادری اور متعلقہ حکام سے ڈولفنز، وہیلز، سمندری کچھوؤں اور دیگر انواع کے تحفظ کے لیے اقدامات مضبوط کرنے کی اپیل کی ہے۔ جالوں میں غیر ارادی طور پر پھنسنے، آلودگی، شور اور رہائشی علاقوں میں تبدیلی جیسے عوامل سمندری جانوروں کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ تازہ مشاہدہ گوادر کے ساحلی پانیوں کی حیاتیاتی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے اور اس بات کی ضرورت بڑھاتا ہے کہ علاقے میں انواع کی تعداد، نقل و حرکت اور خوراکی وسائل پر باقاعدہ سائنسی نگرانی جاری رکھی جائے۔