لاہور: پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کی نئی قومی رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ فضائی آلودگی پاکستان میں اوسط متوقع عمر کو تقریباً 3.9 سال کم کر رہی ہے اور ہر سال تقریباً 128 ہزار قبل از وقت اموات سے اس کا تعلق بنتا ہے۔ رپورٹ نے آلودگی کے صحت، معیشت اور بڑے شہری علاقوں پر اثرات کا مشترکہ جائزہ پیش کیا ہے۔
’انویلنگ پاکستانز ایئر پولوشن: اے نیشنل لینڈ اسکیپ رپورٹ آن ہیلتھ رسکس، سورسز اینڈ سلوشنز‘ کے عنوان سے جاری دستاویز میں لاہور، کراچی، اسلام آباد-راولپنڈی اور پشاور کے بڑے شہری ایئرشیڈز کا جائزہ شامل ہے۔ رپورٹ مختلف شعبوں سے اخراج کو ایک ہم آہنگ قومی انوینٹری میں جمع کرنے اور شہروں کے درمیان آلودگی کے ذرائع کا تقابلی جائزہ لینے کی کوشش کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق لاہور میں طویل مدت تک آلودہ ہوا میں رہنے سے متوقع عمر میں سات سال تک کمی کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ قومی سطح پر فضائی آلودگی کا معاشی بوجھ مجموعی ملکی پیداوار کے تقریباً 6.5 فیصد کے مساوی بتایا گیا ہے۔ یہ اعداد تخمینے ہیں اور انہیں ہر فرد کے لیے یقینی طبی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ اصل صحت اثرات عمر، مقام، نمائش، بیماریوں اور دیگر عوامل کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔
مطالعے میں مختلف شہری علاقوں کے لیے ٹرانسپورٹ، صنعت، توانائی، زرعی باقیات، گھریلو ایندھن اور دوسرے اخراجی ذرائع کے کردار کا جائزہ لیا گیا اور ایسی مداخلتوں کی نشاندہی کی گئی جو مجموعی اخراج میں نمایاں کمی لا سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مربوط پالیسی اقدامات سے بعض اخراج میں 50 فیصد تک کمی کی گنجائش موجود ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے مختلف سرکاری محکموں اور شہروں کے درمیان مشترکہ عملدرآمد ضروری ہوگا۔
پاکستان خصوصاً پنجاب میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ اسموگ اور باریک ذرات کی بلند سطح کا سامنا کرتا ہے، جس سے سانس اور قلبی امراض کے خطرات بڑھتے ہیں۔ نئی رپورٹ پالیسی سازوں کے لیے اس مسئلے کو صرف موسمی اسموگ کے بجائے مستقل صحت اور اقتصادی چیلنج کے طور پر دیکھنے پر زور دیتی ہے۔ رپورٹ میں دیے گئے اموات، عمر اور جی ڈی پی کے اعداد ماڈلنگ اور دستیاب ڈیٹا پر مبنی تخمینے ہیں؛ ان کا مقصد مسئلے کے ممکنہ قومی حجم کی پیمائش اور اخراج کم کرنے کے لیے ترجیحات طے کرنا ہے۔

