اسلام آباد: پاکستان نے پانی کی بڑھتی قلت سے نمٹنے کے لیے اگلی دہائی میں اسٹریٹجک آبی انفراسٹرکچر پر تقریباً 18 ارب ڈالر وفاقی فنانسنگ کی ضرورت کا تخمینہ لگایا ہے۔ دی نیوز اور جیو نیوز کے مطابق پلاننگ کمیشن کے قومی واٹر سکیورٹی فریم ورک، جو اڑان پاکستان کے تحت تیار کیا گیا ہے، میں آبپاشی کے انتظام، ذخائر، سیلابی تحفظ اور زیر زمین پانی کے ضابطے میں وسیع اصلاحات تجویز کی گئی ہیں۔
فریم ورک کا ہدف ہے کہ پانی کے استعمال کی مجموعی کارکردگی موجودہ تقریباً 40 فیصد سے بڑھا کر 2029 تک 70 فیصد کی جائے۔ اسی مدت میں کھیتوں کے دہانے پر پانی کی دستیابی 58.3 ملین ایکڑ فٹ سے بڑھا کر 79 ملین ایکڑ فٹ کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی موجودہ لائیو واٹر اسٹوریج گنجائش 15.318 ملین ایکڑ فٹ ہے، جسے 2029 تک 23.54 ملین ایکڑ فٹ تک لے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
پلاننگ کمیشن کی دستاویز خبردار کرتی ہے کہ موجودہ قابل استعمال ذخیرہ دریائے سندھ کے سالانہ بہاؤ کے صرف تقریباً 11 فیصد کے برابر ہے۔ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت جاری منصوبوں سے 9.821 ملین ایکڑ فٹ اضافی ذخیرہ متوقع ہے، جبکہ اخوری آف چینل اسٹوریج ڈیم، شیوک ڈیم اور اسکردو ڈیم سمیت مجوزہ منصوبوں کی پائپ لائن تقریباً 14.5 ملین ایکڑ فٹ مزید گنجائش فراہم کر سکتی ہے۔ یہ مجوزہ اعداد منصوبوں کی تکمیل اور منظوری سے مشروط ہیں۔
تقریباً 18 ارب ڈالر کا دس سالہ وفاقی تخمینہ سیلابی انتظام، پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں اور نہری نظام کی جدید کاری کے لیے ہے۔ فریم ورک میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے تحت واٹر سسٹم انٹیگریٹر کی طرز کا انتظام تجویز کیا گیا ہے تاکہ دریاؤں سے کھیتوں تک پانی کی تقسیم میں جوابدہی بہتر بنائی جا سکے۔
زراعت پاکستان میں میٹھے پانی کے تقریباً 95 فیصد اخراج کی ذمہ دار ہے، اس لیے رپورٹ نے ڈرپ اور اسپرنکلر آبپاشی کو مالی مراعات کے ذریعے تیز کرنے، آبیانہ کو حقیقی آپریشن اور دیکھ بھال کی لاگت سے جوڑنے اور فصلوں کے انتخاب کو پانی کی پیداواری صلاحیت کے مطابق بہتر بنانے کی تجاویز دی ہیں۔ رپورٹ میں رسمی آبپاشی نیٹ ورک سے باہر تقریباً 20.58 ملین ایکڑ موزوں زرعی زمین کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
زیر زمین پانی کے حوالے سے دستاویز نے سولر زرعی ٹیوب ویلوں کی سبسڈی کو رجسٹریشن اور پائیدار اخراج کی حدود سے منسلک کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب کے کئی علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح سالانہ 0.5 سے ایک میٹر تک گر رہی ہے۔ سستی شمسی توانائی پمپنگ کی توانائی لاگت کم کرتی ہے، مگر ضابطہ نہ ہونے کی صورت میں زیر زمین ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
فریم ورک میں شہری گندے پانی کا کم از کم 25 فیصد دوبارہ استعمال کرنے، گلیشیئر مانیٹرنگ مضبوط بنانے اور سیلابی منصوبہ بندی کو نئے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ یہ اہداف خودکار طور پر حاصل نہیں ہوں گے؛ رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ 2029 کے نتائج کے لیے انفراسٹرکچر، قواعد اور وفاقی و صوبائی سطح پر مربوط عملدرآمد ضروری ہوگا۔
