اسلام آباد: پاکستان نے اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس COP31 سے قبل موسمیاتی مالیات تک رسائی بڑھانے اور بین الاقوامی فنڈز کے لیے قابل سرمایہ کاری منصوبوں کی تیاری بہتر بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ڈان کی 28 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق حکومتی ادارے موسمیاتی موافقت، نقصان و تباہی اور کم کاربن ترقی کے منصوبوں کے لیے مالی وسائل حاصل کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور حالیہ برسوں میں سیلاب، گرمی کی لہروں، خشک سالی اور گلیشیئر سے متعلق خطرات نے بنیادی ڈھانچے، زراعت اور مقامی آبادیوں پر بڑے اثرات ڈالے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ملکی وسائل کے ساتھ عالمی موسمیاتی مالیات کی زیادہ قابل اعتماد اور آسان رسائی ضروری ہے۔

موسمیاتی فنڈنگ حاصل کرنے میں صرف بین الاقوامی وعدے کافی نہیں ہوتے۔ گرین کلائمیٹ فنڈ اور دوسرے کثیرالجہتی ذرائع عموماً تفصیلی منصوبہ بندی، ماحولیاتی و سماجی حفاظتی معیار، مالی شفافیت اور قابل پیمائش نتائج کا تقاضا کرتے ہیں۔ پاکستان کی حکمت عملی میں ایسے منصوبوں کی پائپ لائن بہتر بنانا اہم ہے جو ان شرائط پر پورا اتر سکیں اور منظوری کے بعد مؤثر طور پر نافذ بھی ہوں۔

گرین فنانس اور نجی سرمایہ کاری کو بھی وسیع حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ توانائی کی منتقلی، پانی کے انتظام، موسمیاتی مزاحمت رکھنے والی زراعت، شہری نکاسی اور قدرتی آفات سے تحفظ جیسے شعبوں میں سرکاری سرمایہ اکیلا کافی نہیں، اس لیے حکومت کو ایسے مالی ڈھانچوں کی ضرورت ہے جو ترقیاتی اداروں اور نجی سرمایہ کاروں کو بھی شامل کر سکیں۔

COP31 کے لیے پاکستان کی تیاری میں موسمیاتی انصاف اور ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی ذمہ داری کا معاملہ بھی اہم رہے گا۔ تاہم کسی بین الاقوامی کانفرنس میں فنڈنگ کا مطالبہ اور حقیقت میں رقم کی منظوری دو الگ مراحل ہیں۔ موجودہ پیش رفت کو مالیات حاصل کرنے کی تیاری، منصوبوں کے معیار اور مذاکراتی حکمت عملی بہتر بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ حتمی فنڈنگ کا حجم متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے فیصلوں اور مخصوص منصوبوں کی منظوری پر منحصر ہوگا۔