جامشورو: سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے جامشورو میں ایک کارروائی کے دوران تقریباً 1700 ذبح شدہ پرندے برآمد کیے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایک مبینہ غیر قانونی شکار اور سپلائی نیٹ ورک کے خلاف کی گئی، جو جنگلی اور مہاجر پرندوں کو ان کے قدرتی مسکن سے پکڑ کر ذبح کرتا، فریزر میں محفوظ رکھتا اور آرڈر پر مختلف علاقوں میں پہنچاتا تھا۔
سندھ کے چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف جاوید مہر کے مطابق برآمد کیے گئے پرندوں میں 700 سے زیادہ ایسے انواع سے تعلق رکھتے تھے جنہیں اسلامی فقہی اصولوں کے تحت کھانے کے لیے ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ اس کے باوجود ان پرندوں کا گوشت فروخت کیا جا رہا تھا۔ یہ تفصیل محکمہ وائلڈ لائف کے بیان پر مبنی ہے اور مبینہ سپلائی نیٹ ورک سے متعلق ذمہ داری کا حتمی تعین تفتیش اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔
پاکستان خصوصاً سندھ کے آبی علاقوں میں موسمِ سرما کے دوران بڑی تعداد میں مہاجر پرندے آتے ہیں۔ ان میں کئی انواع وسطی ایشیا اور سائبیریا سمیت دور دراز علاقوں سے طویل سفر کرکے جھیلوں، دریائی علاقوں اور ساحلی مساکن تک پہنچتی ہیں۔ غیر قانونی شکار ان پرندوں کی آبادی کے ساتھ مقامی ماحولیاتی نظام کے لیے بھی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
تازہ چھاپے سے یہ مسئلہ بھی سامنے آیا ہے کہ غیر قانونی شکار صرف موقع پر ہونے والی سرگرمی تک محدود نہیں بلکہ مبینہ طور پر ذخیرہ، نقل و حمل اور خریداروں تک ترسیل کی منظم زنجیر اختیار کر سکتا ہے۔ ایسے نیٹ ورکس کی روک تھام کے لیے شکار گاہوں کی نگرانی کے ساتھ مارکیٹ اور سپلائی چین کی جانچ بھی ضروری ہوتی ہے۔
محکمہ وائلڈ لائف کی کارروائی کے بعد مزید تفتیش سے یہ طے ہوگا کہ برآمد شدہ پرندے کن مقامات سے شکار کیے گئے، انہیں کن خریداروں تک پہنچایا جانا تھا اور آیا اس سرگرمی میں مزید افراد شامل تھے۔ کسی ملزم کی قانونی ذمہ داری عدالت میں ثبوت کی بنیاد پر ہی طے ہوگی۔

