اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان میں فضائی آلودگی اور اس سے جڑے ماحولیاتی مسائل کے لیے مقامی ٹیکنالوجی اور کاروباری حل کی حوصلہ افزائی کی غرض سے 10 ملین ڈالر مالیت کا کلین ایئر اسٹارٹ اپ فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق حکومتی نمائندوں نے کہا کہ یہ فنڈ محدود سرکاری وسائل کے باوجود قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ صاف ہوا سے متعلق قابلِ عمل اختراعات کو مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔

پاکستان کے بڑے شہری مراکز، خصوصاً لاہور اور وسطی پنجاب، ہر سال سردیوں کے آغاز کے ساتھ شدید اسموگ اور بلند فضائی آلودگی کا سامنا کرتے ہیں۔ گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج، تعمیراتی گرد، زرعی باقیات جلانے اور موسمی حالات سمیت متعدد عوامل آلودگی کی شدت میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں نئی مالی سہولت کا مقصد ایسے کاروباری منصوبوں کو آگے بڑھانا ہے جو اخراج میں کمی، فضائی معیار کی نگرانی، صاف توانائی، صنعتی ٹیکنالوجی یا شہری آلودگی کے دیگر قابلِ پیمائش حل پیش کر سکیں۔

اسٹارٹ اپ فنڈ کا اعلان پالیسی سطح پر ایک نئی سمت کی نشاندہی کرتا ہے کیونکہ فضائی آلودگی کے خلاف روایتی ریگولیٹری اقدامات کے ساتھ نجی شعبے اور نئی ٹیکنالوجی کو بھی حل کا حصہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم فنڈ کی کامیابی کا انحصار اس کے انتخابی معیار، سرمایہ فراہم کرنے کے طریقہ کار، شفاف نگرانی اور اس بات پر ہوگا کہ معاونت حاصل کرنے والے منصوبوں کے ماحولیاتی اثرات کو کس طرح ناپا جاتا ہے۔

حکومت نے فنڈ کے قیام کو اپنے وسائل سے مالی مدد دینے کے فیصلے کے طور پر پیش کیا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں تمام آپریشنل تفصیلات، درخواستوں کے آغاز کی تاریخ، فی منصوبہ سرمایہ کاری کی حد اور فنڈ کے انتظامی ڈھانچے کی مکمل تفصیل سامنے نہیں آئی، اس لیے ان امور پر آئندہ سرکاری ہدایات اہم ہوں گی۔

فضائی آلودگی صحت عامہ، پیداواری صلاحیت اور شہری معیشت کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔ ایسے میں ٹیکنالوجی پر مبنی حل مفید ہو سکتے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق انہیں اخراج کے بنیادی ذرائع پر مؤثر نفاذ، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، صنعتی نگرانی، صاف ایندھن اور زرعی طریقوں میں تبدیلی جیسے وسیع اقدامات کے ساتھ جوڑنا ضروری ہوگا۔ نیا فنڈ اسی بڑے چیلنج کے ایک حصے کو نجی اختراع اور کاروباری سرمایہ کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش ہے۔