اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ صارفین پر بلاجواز، غیر متناسب یا ثبوت کے بغیر ڈیٹیکشن بل عائد نہ کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی چوری اور تکنیکی نقصانات کے خلاف کارروائی ضروری ہے، لیکن اس عمل میں جائز صارفین کو غیر منصفانہ مالی بوجھ کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
ڈیٹیکشن بل عام طور پر ایسے معاملات میں جاری کیے جاتے ہیں جہاں تقسیم کار کمپنی کو شبہ ہو کہ میٹر سست چل رہا تھا، بجلی چوری ہوئی، میٹر یا کنکشن میں مداخلت کی گئی یا ماضی میں استعمال شدہ بجلی کی مکمل رقم وصول نہیں ہوسکی۔ ایسے بل ماضی کے تخمینی استعمال کی بنیاد پر اضافی رقم وصول کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اسی لیے ان کی درست بنیاد اور دستاویزی ثبوت صارفین کے حقوق کے لیے اہم ہوتے ہیں۔
وزیر توانائی نے ڈسکوز کے بورڈز کے ساتھ اجلاس میں بلنگ کے طریقہ کار اور بجلی چوری کے خلاف اقدامات کا جائزہ لیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ بجلی چوری روکنے کے لیے سختی کی جائے، مگر کارروائی قواعد کے مطابق اور قابل تصدیق شواہد پر مبنی ہونی چاہیے۔ صارفین سے ایسی رقم وصول نہیں کی جانی چاہیے جس کی واضح تکنیکی یا قانونی بنیاد موجود نہ ہو۔
پاکستان کے بجلی شعبے میں لائن لاسز، چوری، ناقص وصولیوں اور گردشی قرض کا مسئلہ طویل عرصے سے مالی دباؤ کا سبب ہے۔ حکومت تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے، نقصانات کم کرنے اور وصولیوں میں اضافے کے لیے مختلف اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ تاہم ان اہداف کے حصول میں بلنگ کی شفافیت بھی اہم ہے کیونکہ غلط یا متنازع بل صارفین اور کمپنیوں کے درمیان اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔
ڈیٹیکشن بلوں سے متعلق شکایات میں اکثر حساب کے طریقہ، سابقہ مدت کے تخمینے اور مبینہ بے ضابطگی کے ثبوت پر اختلاف سامنے آتا ہے۔ وزیر کی تازہ ہدایت کا عملی اثر اس بات سے واضح ہوگا کہ ڈسکوز اپنے فیلڈ عملے، میٹر معائنے اور بلنگ نظام میں کتنی مؤثر نگرانی نافذ کرتی ہیں اور صارفین کی شکایات کتنی تیزی سے حل ہوتی ہیں۔
وزارت توانائی نے اس امر پر زور دیا ہے کہ بجلی چوری کے خلاف مہم جاری رہے گی، لیکن جائز صارفین کے حقوق اور درست بلنگ کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ اس ہدایت کے بعد تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈز اور انتظامیہ پر ذمہ داری بڑھے گی کہ وہ ڈیٹیکشن بل کے اجرا سے پہلے مطلوبہ شواہد اور قواعد کی پابندی یقینی بنائیں۔
