اسلام آباد: وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے پبلک ریسورسز فار انکلوسیو ڈیولپمنٹ پروگرام کے تصوراتی منصوبے کو منظوری دے دی ہے۔ پروگرام کے لیے عالمی بینک کی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن سے 20 کروڑ ڈالر کی فنانسنگ تجویز کی گئی ہے اور اس کی مدت پانچ سال، اکتوبر 2031 تک رکھی گئی ہے۔

دستیاب تصوراتی دستاویز کے مطابق مجموعی فنانسنگ میں تقریباً 18 کروڑ ڈالر اصلاحاتی نتائج سے منسلک پروگرام اور دو کروڑ ڈالر تکنیکی معاونت کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ پروگرام تین بڑے شعبوں میں صوبائی حکمرانی اور مالی انتظام بہتر بنانے پر توجہ دے گا۔

پہلا شعبہ صوبائی محصولات میں اضافہ ہے۔ اس کے تحت ٹیکس دہندگان کا دائرہ وسیع کرنے، خطرے کی بنیاد پر آڈٹ اور تعمیل کا نظام متعارف کرانے، جائیداد کی قیمتوں کے جدول جدید بنانے اور ٹیکس چھوٹ کا جائزہ لینے کی تجاویز شامل ہیں۔ پروگرام خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی، بورڈ آف ریونیو، ایکسائز و ٹیکسیشن اور معدنیات کے محکمے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دے گا۔

دوسرا شعبہ سرکاری اخراجات کی کارکردگی اور جوابدہی ہے۔ منصوبے کے مطابق صحت اور تعلیم میں بجٹ کو نتائج سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ جوڑنے، اسکولوں اور بنیادی مراکز صحت کو غیر تنخواہی رقوم بروقت جاری کرنے، ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنانے اور اندرونی کنٹرول بہتر کرنے پر کام کیا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ منظور شدہ بجٹ صرف مختص نہ ہو بلکہ مقررہ وقت پر بنیادی خدمات تک پہنچے۔

تیسرا شعبہ پالیسی سازی کے لیے اعدادوشمار اور ڈیٹا کی دستیابی بہتر بنانا ہے۔ خیبر پختونخوا بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے، مختلف ڈیٹا ذرائع کو مربوط کرنے اور انسانی ترقی، بجٹ اور محصولات سے متعلق زیادہ قابل اعتماد اور بروقت معلومات فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

تصوراتی منظوری فنانسنگ اور پروگرام کے نفاذ کی طرف اہم مرحلہ ہے، تاہم قرض کی حتمی شرائط، متعلقہ منظوریوں اور عالمی بینک کے اپنے عمل کی تکمیل ضروری ہوگی۔ پروگرام کے متوقع نتائج میں صوبائی اپنے ذرائع کی آمدن بڑھانا، ٹیکس بنیاد وسیع کرنا، صحت و تعلیم کے اخراجات کو زیادہ مؤثر بنانا اور پالیسی فیصلوں کے لیے بہتر ڈیٹا فراہم کرنا شامل ہے۔