لاہور: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت liquidity سے چلنے والی اور محض کھپت بڑھا کر حاصل کی جانے والی معاشی نمو کی پالیسی اختیار نہیں کرے گی، کیونکہ ماضی میں درآمدات پر انحصار کرنے والی تیز رفتار سرگرمی بالآخر ادائیگیوں کے توازن کے بحران اور بیرونی مالی مدد کی ضرورت پر منتج ہوتی رہی ہے۔ انہوں نے پائیدار اور برآمدات پر مبنی ترقی کو ترجیح دیتے ہوئے ٹیرف اصلاحات جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

محمد اورنگزیب لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں امریکن بزنس فورم کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت خام مال اور intermediate goods کی لاگت کم کرکے برآمدی صنعتوں کی مسابقت بہتر بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیرف اصلاحات کا دوسرا سال جاری ہے اور حکومت دباؤ کے باوجود اس عمل سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

وزیر خزانہ کے مطابق حالیہ بجٹ میں برآمدات پر مبنی نمو کی سمت متعین کرنے کے لیے سپر ٹیکس کے خاتمے، ٹیکس سلیب میں کمی اور برآمد کنندگان کے لیے 4.5 فیصد شرح پر فنانسنگ جیسے اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے طویل عرصے تک بعض مقامی صنعتوں کو بغیر واضح اختتامی مدت کے تحفظ دینے کی پالیسی پر تنقید کی اور کہا کہ یہ طریقہ غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے زور دیا کہ معاشی نمو کا معیار صرف GDP میں اضافہ نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنا بھی ہونا چاہیے۔ عالمی معیشت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بین الاقوامی اجلاسوں میں توانائی کے جھٹکوں، بلند قرضوں، محدود مالی گنجائش، مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی معاشی تقسیم اور خوراک کے تحفظ جیسے مسائل نمایاں رہے۔ پاکستان کے لیے علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئے معاشی بلاکس کو مواقع کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کے مالی اور بیرونی خساروں میں نمایاں کمی آئی ہے اور زر مبادلہ کے ذخائر تین ماہ سے زیادہ کی درآمدی ضروریات کے برابر ہو گئے ہیں۔ انہوں نے IT خدمات کی برآمدات میں اضافے اور حالیہ بین الاقوامی بانڈ سرگرمی کو بھی سرمایہ کار اعتماد کی علامات کے طور پر پیش کیا، تاہم یہ اعداد حکومتی معاشی مؤقف کا حصہ ہیں اور پائیدار بہتری کا انحصار اصلاحات کے تسلسل اور حقیقی سرمایہ کاری پر ہوگا۔

وزیر خزانہ نے مشرق وسطیٰ کے تنازع کے تناظر میں کہا کہ فوری توانائی سپلائی نومبر تک محفوظ کرلی گئی ہے اور موسم سرما کے انتظامات پر کام جاری ہے۔ انہوں نے targeted subsidies کو blanket subsidies پر ترجیح دینے، قرضوں کے انتظام، پنشن اصلاحات، آبادی میں تیز اضافے، خواتین کی تعلیم اور workforce participation کو بھی طویل مدتی معاشی ایجنڈے سے جوڑا۔ مجموعی طور پر ان کا پیغام یہ تھا کہ حکومت قلیل مدتی کھپت کے بجائے برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار پر مبنی نمو کو ترجیح دے گی۔