اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستان سے کہا ہے کہ حالیہ میکرو اکنامک استحکام کو زیادہ تیز، پائیدار اور روزگار پیدا کرنے والی معاشی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے اصلاحات کی رفتار بڑھائی جائے۔ ادارے کے مطابق سرمایہ کاری، نجی شعبے کی سرگرمی، برآمدات اور پیداواری صلاحیت میں بہتری کے بغیر صرف مالی استحکام طویل مدتی آمدنی میں مطلوبہ اضافہ نہیں لا سکے گا۔
ڈان کی 24 اکتوبر کی رپورٹ میں پاکستان ڈیولپمنٹ اپڈیٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ حالیہ برسوں کی محتاط میکرو اکنامک پالیسیوں نے معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد دی ہے اور مشرق وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے والے دباؤ کے باوجود نمو برقرار رہی۔ حقیقی جی ڈی پی کی شرح مالی سال 2026 میں 3.7 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال کے 3.2 فیصد سے زیادہ تھی۔
عالمی بینک کے تجزیے کے مطابق اگر پاکستان کی پالیسیوں اور ادارہ جاتی کارکردگی کو اوسط متوسط آمدنی والے ممالک کے معیار کے قریب لایا جائے تو سالانہ معاشی نمو 6.2 سے 6.9 فیصد تک پہنچنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں یہ تخمینہ بھی پیش کیا گیا کہ مسلسل اصلاحات کی صورت میں 2050 تک فی کس آمدنی میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ یہ پیش گوئیاں مخصوص اصلاحاتی مفروضوں پر مبنی ہیں، اس لیے انہیں یقینی نتائج کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
رپورٹ نے نجی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول، کاروباری لاگت میں کمی، مسابقت، انسانی سرمائے، برآمدات اور ادارہ جاتی معیار کو اہم قرار دیا۔ پاکستان طویل عرصے سے کم سرمایہ کاری، محدود برآمدی تنوع اور پیداواری صلاحیت میں سست اضافے جیسے مسائل کا سامنا کرتا رہا ہے، جس کے باعث تیز نمو کے ادوار اکثر بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں تبدیل ہوئے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مالی نظم، ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے میں تبدیلی اور کاروباری ضوابط کو آسان بنانا پائیدار ترقی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ عالمی بینک نے بھی اصلاحات کے تسلسل کو کلیدی شرط قرار دیا ہے۔
پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ مالی استحکام برقرار رکھتے ہوئے ترقیاتی اخراجات، سماجی تحفظ اور نجی سرمایہ کاری کے لیے گنجائش پیدا کی جائے۔ عالمی بینک کی سفارشات پالیسی سمت تجویز کرتی ہیں، مگر بلند شرح نمو کے حصول کا انحصار ملکی اور عالمی حالات، اصلاحات کے عملی نفاذ، سیاسی و ادارہ جاتی تسلسل اور بیرونی توانائی و تجارتی خطرات پر رہے گا۔
