اسلام آباد: مہند ڈیم ہائیڈرو پاور منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت تقریباً 666 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جو ابتدائی منظور شدہ تخمینے کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ منصوبے کی اصل منظور شدہ لاگت تقریباً 309.6 ارب روپے تھی، جبکہ تازہ نظرثانی کے بعد مجموعی تخمینہ تقریباً 115 فیصد بڑھ گیا ہے۔

منصوبے سے متعلق سرکاری دستاویزات اور حکام کی بریفنگ کے مطابق لاگت میں اضافے کی بڑی وجوہ میں روپے کی قدر میں نمایاں کمی، تعمیراتی اور درآمدی اخراجات میں اضافہ، ڈیزائن اور انجینئرنگ میں تبدیلیاں اور منصوبے کی تکمیل کے دوران سامنے آنے والی مالی ضروریات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی نے غیر ملکی کرنسی میں ہونے والے اخراجات کو خاص طور پر متاثر کیا۔

مہند ڈیم خیبر پختونخوا میں دریائے سوات پر تعمیر کیا جا رہا ہے اور اسے پانی ذخیرہ کرنے، سیلاب کے خطرات کم کرنے، آبپاشی کے لیے پانی فراہم کرنے اور پن بجلی پیدا کرنے کے کثیرالمقاصد منصوبے کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ منصوبے کی نصب شدہ پن بجلی صلاحیت 800 میگاواٹ ہے اور تکمیل کے بعد اس سے قومی گرڈ کو قابل تجدید بجلی فراہم کرنے کی توقع ہے۔

حکام کے مطابق منصوبے پر عملی تعمیراتی کام جاری ہے اور مختلف حصوں میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم لاگت میں بڑے اضافے نے منصوبہ بندی، مالی انتظام اور تکمیل کے شیڈول کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ بڑے آبی منصوبوں میں طویل تعمیراتی مدت کے باعث کرنسی کی قدر، درآمدی مشینری، تعمیراتی مواد اور مالیاتی اخراجات میں تبدیلی مجموعی لاگت پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔

نظرثانی شدہ لاگت کی منظوری کے عمل میں متعلقہ منصوبہ بندی فورمز کو مالی اور تکنیکی جواز کا جائزہ لینا ہوگا۔ مہند ڈیم پاکستان کے بڑے زیر تعمیر آبی و توانائی منصوبوں میں شامل ہے، اس لیے اس کی بروقت تکمیل بجلی کی پیداوار کے ساتھ پانی کے انتظام اور سیلاب سے تحفظ کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔ تاہم نئی لاگت کے بعد حکومت اور واپڈا کے لیے مالی وسائل کی بروقت فراہمی اور مزید اضافے کو محدود رکھنا اہم چیلنج ہوگا۔