لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے کم عمری کی شادی سے متعلق 11 صفحات کے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر فرد کی شادی چائلڈ میرج ہے اور کم سن بچے کے ساتھ ازدواجی زندگی، رضامندی کے دعوے کے باوجود، چائلڈ ابیوز کے قانونی دائرے میں آسکتی ہے۔ ایکسپریس اردو کے مطابق جسٹس منور اقبال دوگل نے ایک کم سن لڑکی کی تحویل اور مبینہ نکاح سے متعلق مقدمے میں یہ فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے کہا کہ کم عمر لڑکی کی بیان کردہ رضامندی اسے کسی بالغ شخص کے ساتھ رہنے کا خودکار قانونی حق نہیں دیتی، کیونکہ بچے کی فلاح اور تحفظ بنیادی ترجیح ہے۔ فیصلے میں پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کے تحت بدلے ہوئے قانونی فریم ورک کا حوالہ دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کم عمر فرد کے ساتھ ازدواجی تعلق پر پانچ سے سات سال قید اور چائلڈ ابیوز کے جرم پر کم از کم دس لاکھ روپے جرمانہ ہوسکتا ہے؛ یہ ممکنہ قانونی سزائیں ہیں، موجودہ مقدمے میں کسی شخص کو دی گئی حتمی سزا نہیں۔
مقدمے میں نادرا ریکارڈ کے مطابق لڑکی کی تاریخ پیدائش یکم مارچ 2011 اور نکاح کے وقت عمر تقریباً 15 سال دو ماہ بتائی گئی۔ عدالت نے اسے مبینہ شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی اور چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی محفوظ تحویل میں رکھنے کا حکم دیا۔ والدین یا مبینہ شوہر میں سے کسی کو فوری براہ راست تحویل دینے سے بھی گریز کیا گیا۔
فیصلے کے مطابق لڑکی کی والدین یا مبینہ شوہر سے ملاقات صرف نگرانی میں کرائی جا سکتی ہے۔ مستقل تحویل کا فیصلہ گارڈین جج لاہور کرے گا، جس سے واضح ہے کہ ہائیکورٹ کا موجودہ حکم فوری تحفظ اور قانونی تحقیقات کے لیے ہے، مستقل سرپرستی کا آخری فیصلہ نہیں۔ اس فرق کو برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ عبوری حفاظتی حکم کو حتمی تحویلی فیصلے کے طور پر نہ پیش کیا جائے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ پولیس کم عمری کی شادی کے الزام کی تحقیقات سے صرف اس لیے انکار نہیں کرسکتی کہ پہلے اغوا کا مقدمہ موجود ہے۔ اگر حقائق سے الگ جرم ظاہر ہو تو الگ ایف آئی آر درج ہوسکتی ہے۔ جسٹس آف پیس قصور کا سابق فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے متعلقہ ایس ایچ او کو قانون کے مطابق مقدمہ درج کرنے اور کم عمری کی شادی و مبینہ جعلی نکاح نامے کے الزامات کی تحقیقات کی ہدایت دی گئی۔
عدالت نے ساتھ یہ اصول بھی واضح کیا کہ ایف آئی آر کا اندراج کسی نامزد شخص کو قصوروار قرار دینے کے مترادف نہیں۔ الزام، تفتیش، مقدمہ اور سزا الگ قانونی مراحل ہیں۔ اس خبر میں تصدیق شدہ نتیجہ ہائیکورٹ کا حفاظتی و تفتیشی حکم اور 18 سال کی قانونی حد کی تشریح ہے؛ مبینہ شوہر یا کسی دوسرے شخص کی فوجداری ذمہ داری تحقیقات اور بعد کی عدالتی کارروائی سے طے ہوگی۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




