لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد راحیل کامران شیخ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق 3 ستمبر کو صدرِ مملکت کے نام لکھے گئے استعفے میں انہوں نے کہا کہ وہ لاہور ہائیکورٹ کے جج کے منصب سے فوری طور پر الگ ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق استعفے میں عدالتی ذمہ داریوں سے ہٹ کر قانونی علمی کام، پالیسی تحقیق اور تقابلی عدالتی طریقہ کار سے زیادہ وسیع انداز میں وابستہ ہونے کی خواہش کو فیصلے کی وجہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
جسٹس راحیل کامران شیخ کا استعفیٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی، عدالتی انتظام اور آئینی و قانونی معاملات مسلسل عوامی اور ادارہ جاتی توجہ کا مرکز ہیں۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں استعفے کو کسی زیر سماعت مقدمے، تادیبی کارروائی یا مخصوص تنازعے سے منسلک نہیں کیا گیا۔ اس لیے ان کے بیان کردہ اسباب سے آگے کسی محرک کو حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔
آئینی نظام میں ہائیکورٹ کے جج کا استعفیٰ صدرِ مملکت کو دیا جاتا ہے۔ جسٹس شیخ نے اپنے خط میں عہدہ فوری طور پر چھوڑنے کی بات کی، جس کے بعد متعلقہ سرکاری اور عدالتی ریکارڈ میں ضروری انتظامی کارروائی متوقع ہے۔ ان کے جانے سے لاہور ہائیکورٹ میں دستیاب ججوں کی تعداد اور مقدمات کی تقسیم پر انتظامی سطح پر اثر پڑ سکتا ہے، تاہم اس بارے میں عدالت کی جانب سے الگ تفصیل سامنے آنا ضروری ہوگی۔
جسٹس راحیل کامران شیخ قانونی حلقوں میں عدالتی کام کے ساتھ علمی اور تحقیقی دلچسپی کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔ ان کے استعفے میں قانونی اسکالرشپ، پالیسی ریسرچ اور مختلف ملکوں کے عدالتی تجربات کے تقابلی مطالعے کی طرف رجحان کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ عدالتی منصب کے بعد قانون سے وابستگی کسی دوسری پیشہ ورانہ یا علمی صورت میں جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
استعفے کی خبر کا بنیادی قابل تصدیق نکتہ یہ ہے کہ خط 3 ستمبر 2026 کو صدر کے نام دیا گیا اور اس میں فوری اثر کے ساتھ عہدہ چھوڑنے کا کہا گیا۔ مستقبل میں ان کی پیشہ ورانہ سرگرمی، کسی ادارے سے وابستگی یا سرکاری سطح پر استعفے کی تکمیل سے متعلق مزید معلومات سامنے آئیں تو انہیں الگ پیش رفت کے طور پر دیکھا جائے گا۔




