لاہور ہائیکورٹ نے سیکریٹری وزارت خارجہ کو متحدہ عرب امارات میں زیر حراست دو پاکستانی شہریوں، سید سلمان رضا زیدی اور محمد جنید جہانگیر، سے متعلق اہل خانہ کی نمائندگیوں کو پراسیس کرکے ترجیحاً 15 روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈان کے مطابق جسٹس صادق محمود خرم نے 14 ستمبر کے تحریری احکامات میں دو الگ درخواستوں کو ان ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا۔

درخواستیں دونوں افراد کے اہل خانہ نے بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی کے ذریعے دائر کی تھیں۔ عدالتی ریکارڈ میں پیش کیے گئے مؤقف کے مطابق زیدی 27 ستمبر 2024 کو شارجہ میں اپنی رہائش گاہ سے لاپتا ہوئے اور بعد میں متحدہ عرب امارات کے حکام کی تحویل میں لیے گئے۔ ان کی اہلیہ فریال زینب نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً دو برس گزرنے کے باوجود انہیں الزامات، عدالتی کارروائی، ممکنہ سزا یا مکمل عدالتی ریکارڈ کے بارے میں واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری درخواست میں محمد ابراہیم نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے بیٹے جنید جہانگیر کو 24 ستمبر 2024 کو سعودی عرب سے واپسی پر دبئی ایئرپورٹ پر مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا۔ درخواست گزاروں نے وفاقی حکومت اور وزارت خارجہ کی جانب سے مؤثر قونصلر تحفظ اور قانونی معاونت فراہم نہ کرنے کا معاملہ اٹھایا۔

درخواست گزاروں نے دونوں شہریوں کے لیے قانونی و قونصلر مدد، عدالتی ریکارڈ تک رسائی، پاکستان واپسی کے لیے سفارتی اقدامات اور ریاست کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تفصیل مانگی تھی۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس سلسلے میں فارن سیکریٹری کو نمائندگیاں دی گئی تھیں لیکن ان پر کارروائی نہیں ہوئی۔

عدالت نے دستیاب دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد حکم دیا کہ اگر یہ نمائندگیاں اب بھی زیر التوا ہیں تو انہیں قانون کے مطابق تیزی سے نمٹایا جائے اور مصدقہ عدالتی حکم موصول ہونے کے بعد ترجیحاً 15 دن کے اندر فیصلہ کیا جائے۔ عدالت نے خود دونوں افراد کی حراست کی قانونی حیثیت، ان پر عائد ممکنہ الزامات یا اماراتی عدالتی کارروائی کے نتائج پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔ حکم کا دائرہ وزارت خارجہ کو اہل خانہ کی درخواستوں پر کارروائی اور فیصلہ کرنے تک محدود ہے۔