کوہاٹ میں اولڈ پولیس لائنز کے ضلعی پولیس ہیڈکوارٹر پر ہونے والے دھماکے اور مسلح حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 31 ہوگئی ہے۔ بزنس ریکارڈر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کے حوالے سے ایک سینئر پولیس افسر کا بیان نقل کیا ہے جس کے مطابق جاں بحق افراد میں 16 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ 100 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حملہ جمعہ کی دوپہر اولڈ پولیس لائنز کمپلیکس پر کیا گیا تھا اور ہفتے کی صبح تک سکیورٹی فورسز کی کارروائی جاری تھی۔
پولیس کمپلیکس ضلع کی سطح کا اہم ہیڈکوارٹر ہے جہاں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، اسپیشل برانچ اور پولیس کے دیگر شعبوں کے دفاتر قائم ہیں۔ پولیس افسر کے مطابق بعض حملہ آور اسپیشل برانچ کے حصے میں موجود تھے اور رات سے فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔ حکام نے اس مرحلے پر اندر موجود حملہ آوروں کی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں کی۔ ضلعی محکمہ صحت کے ایک بیان کے مطابق زخمیوں کی تعداد 100 سے زیادہ تھی اور ان میں بڑی تعداد پولیس اہلکاروں کی تھی، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔
حملے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر میں کمپلیکس کے اندر ملبہ، تباہ شدہ دیواریں اور سکیورٹی اہلکار دکھائی دیے، جبکہ قریب متعدد ایمبولینسیں موجود تھیں۔ واقعے کی نوعیت اور جاری آپریشن کے باعث ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد میں ابتدائی رپورٹوں کے مقابلے میں اضافہ ہوا، اس لیے تازہ سرکاری یا پولیس معلومات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور واقعے کی رپورٹ طلب کی۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ حملے کی ذمہ داری اور تمام حملہ آوروں کی شناخت سے متعلق حتمی سرکاری تفصیلات رپورٹ کے وقت تک مکمل طور پر سامنے نہیں آئی تھیں، اس لیے ان پہلوؤں کو تصدیق شدہ نتیجے کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔

